وزیراعظم کے مشیر اور ن لیگ کے رہنما رانا ثنا اللہ نے آئینی ترمیم پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کسی فرد یا سیاسی شخصیت کے لیے نہیں کی گئی بلکہ اس کا مقصد صدر اور وزیراعظم جیسے آئینی عہدوں کی عالمی سطح پر عزت و احترام کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم وزیر اعظم کی طرح صدر بھی انکار کر سکتے تھے استثنیٰ نہیں چاہیے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم کے عہدے دنیا بھر میں اعزاز اور احترام کے حامل ہیں، اور ان کے ساتھ سیاسی طور پر غیر مناسب سلوک اچھا نہیں۔ اگر کوئی صدر یا وزیراعظم ہر وقت جیل میں رہے، تو یہ ملکی سیاسی اور آئینی اقدار کے لیے اچھی مثال نہیں۔
مزید پڑھیں: ذاتی مفادات کی سیاست چھوڑ کر قومی مفاد کے لیے کام کریں، رانا ثنا اللہ کی پی ٹی آئی رہنماؤں کو تلقین
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے کے بعد آئینی استثنیٰ کا حق رکھتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں، صدر وفاق کی علامت ہیں اور ان کے پاس ایگزیکٹو اختیارات نہیں ہوتے۔
تاہم آئینی عدالت کے ججز کی پہلی تعیناتی وزیراعظم کی ایڈوائس پر ہوگی۔ اس کے علاوہ، آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار بھی وزیراعظم کے پاس ہوگا۔
مزید پڑھیں: بھارتی مظالم عالمی ضمیر کے لیے چیلنج ہیں، رانا ثنا اللہ کا یومِ سیاہ کشمیر پر پیغام
رانا ثنا اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ آئین میں یہ ترمیم کسی سیاسی مقصد یا مخصوص شخصیت کے لیے نہیں کی گئی، بلکہ آئینی عہدوں کی حرمت اور ملک میں جمہوری و آئینی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئینی عہدوں کا احترام کرنا کوئی غلط بات نہیں، اور یہ اقدام پاکستان میں آئینی اداروں کے تقدس کو برقرار رکھنے کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔














