سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی

جمعرات 13 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا۔ دونوں ججز نے اپنے استعفے صدر مملکت کو بھجوا دیے ہیں۔

دونوں ججز کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 27ویں آئینی ترمیم کی دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر مملکت نے بھی اس پر دستخط کردیے ہیں۔

مزید پڑھیں: صدر مملکت نے 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیے، بل آئین کا حصہ بن گیا

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے، اور یہ آئین پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آئینی ترمیم سے انصاف عام آدمی سے دور ہوگیا اور کمزور طاقت کے سامنے بے بس ہوگیا، اس ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کردیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے صدر مملکت کو بھجوائے گئے استعفے میں احمد فراز کے اشعار بھی شامل کیے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ملک کی واحد اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کرکے اور عدلیہ کی آزادی کو پامال کرکے ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے مؤقف اختیار کیاکہ تاریخ گواہ ہے آئینی نظم و نسق کی ہیئت میں اس طرح کی تبدیلیاں زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوتیں، اور اصلاح ایک یقینی امر ہے مگر اس کے چھوڑے ہوئے زخم کے نشانات مندمل نہیں ہو سکتے۔

27ویں ترمیم نے اس آئین کو ختم کردیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ کے دوسرے مستعفی ہونے والے جج جسٹس اطہر من اللہ نے استعفے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 27ویں ترمیم نے اس آئین کو ختم کردیا ہے جس کا انہوں نے حلف اٹھایا تھا۔

انہوں نے لکھا کہ آئین اب محض ایک سایہ رہ گیا ہے اور وہ خاموشی کے ذریعے اپنے حلف سے غداری نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہاکہ آئین جس کے تحفظ کا میں نے حلف لیا تھا وہ اب باقی نہیں رہا۔ میں خود کو اس دھوکے میں نہیں رکھ سکتا کہ نئی بنیادیں اسی آئین پر قائم ہیں، کیونکہ جو کچھ باقی ہے، وہ محض اس کا سایہ ہے، جس میں نہ روح باقی ہے نہ عوام کی آواز۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ 11 سال قبل انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے طور پر حلف لیا، 4 سال بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے تمام ادوار میں انہوں نے ایک ہی وعدہ کیا تھا کہ وہ آئینِ پاکستان کی حفاظت کریں گے، نہ کہ کسی ترمیم شدہ مفہوم کی۔

’آئینی ترمیم کے حوالے سے میرے خدشات درست ثابت ہوئے‘

انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ نکات پر انہیں شدید تحفظات تھے اور انہوں نے اس حوالے سے چیف جسٹس پاکستان کو خط بھی لکھا تھا۔ تاہم ان کے خدشات درست ثابت ہوئے اور آئینی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہاکہ ججوں کے پہنے ہوئے یہ عبا و جبہ محض علامت نہیں بلکہ ایک عظیم امانت کی یاد دہانی ہیں، مگر تاریخ میں اکثر یہ خاموشی اور مصلحت کی علامت بنے رہے۔

اپنے استعفیٰ کے اختتام پر جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ امید ہے کہ آنے والی نسلیں ان عباؤں کو غداری نہیں، بلکہ دیانت کی علامت سمجھیں گی۔ اسی امید کے ساتھ میں یہ جبہ ہمیشہ کے لیے اتار رہا ہوں۔

واضح رہے کہ حکومت نے آئینی ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو آئینی مقدمات سنے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ کا سارا وقت آئینی مقدمات سننے میں صرف ہو جاتا تھا، جس کے باعث روٹین کے مقدمات پر اثر پڑتا تھا، اس لیے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت: چیف جسٹس نے فل کورٹ اجلاس طلب کرلیا

اس سے قبل جسٹس منصور علی شاہ نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس سلسلے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو 2 خطوط بھی ارسال کیے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں