سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے، صوبے کو کسی کیک کی طرح بانٹنا نہیں جا سکتا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہاکہ صوبہ توڑنے کی باتیں بے بنیاد ہیں اور 27 ویں ترمیم کے ایجنڈے میں بلدیات کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں 12 سال بعد بلدیاتی انتخابات، کیا عوام کو حکمرانوں کے قریب لا پائیں گے؟
انہوں نے مزید کہاکہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹ میں 27 ویں ترمیم کے نکات واضح کیے ہیں۔
شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ بانی ایم کیو ایم کے پیروکار ملک کو توڑنے کی باتیں کرتے ہیں، اور متحدہ اپنی مردہ سیاست کو زندہ کرنا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ ہم جذباتی ردعمل دیں تاکہ وہ سیاست کر سکیں اور ہمیشہ اقتدار میں رہیں۔
انہوں نے ایم کیو ایم کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ان کے تمام ہتھکنڈے ختم ہو چکے ہیں اور اگر ایم کیو ایم مثبت سیاست کرے تو ہم ان کے ساتھ ہیں۔
شرجیل میمن نے یہ بھی کہاکہ بلدیاتی انتخابات کا ذکر کرنے والے زمینی حقائق دیکھ کر بائیکاٹ کرگئے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ انتخاب لڑنے پر شکست ہوگی۔
شرجیل میمن نے آئینی عدالتوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میثاق جمہوریت میں بھی اس کا ذکر موجود ہے اور کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی نے کسی شق کو چھپ کر نہیں تسلیم کیا۔
مزید پڑھیں: بلدیاتی نظام سے متعلق امور 28ویں آئینی ترمیم میں زیر غور آئیں گے، مصطفیٰ کمال
واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی نے بلدیاتی نظام سے متعلق بل پر بات نہ کی تو 18ویں ترمیم بھی ختم ہوگی اور سندھ میں صوبہ بھی بنے گا۔














