بلدیاتی نظام سے متعلق امور 28ویں آئینی ترمیم میں زیر غور آئیں گے، مصطفیٰ کمال

منگل 11 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بلدیاتی نظام سے متعلق امور اگلی آئینی ترمیم میں زیر غور آئیں گے۔

انہوں نے وفاقی کابینہ اور دیگر پارٹیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ کے تمام اراکین نے ان کی ترمیم کی حمایت کی اور مشترکہ کمیٹی میں بھی اس پر غور کیا گیا۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی: 27 ویں آئینی ترمیم 2025 کا بل پیش، دو تہائی اکثریت سے منظوری کا امکان

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ کچھ پارٹیز کو ہماری ترمیم پر اعتراض تھا، لیکن ان شا اللہ 28ویں ترمیم میں بلدیاتی نظام کی تشریح بہت جلد سامنے آئے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ این ایف سی کے تحت فنڈز منتخب مقامی حکومتوں تک منتقل کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: سابق لا کلرکس کا چیف جسٹس کو خط، 27ویں آئینی ترمیم عدلیہ کی ’تباہی کا پیش خیمہ‘ قرار

ان کا کہنا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ کیے گئے تو لوگ منفی راستہ اپنا سکتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بلدیاتی ادارے تو قائم کیے گئے ہیں، مگر ان کی فنڈنگ کا کوئی واضح طریقہ کار ابھی وضع نہیں کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘