کراچی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کو 28 سال قبل چوری ہونیوالی گاڑی کے لیے 10 ہزار روپے کا ای چالان موصول ہوا، جس نے انتظامیہ کو حیران کر دیا۔
ہوٹل انتظامیہ کے مطابق، یہ گاڑی مئی 1997 میں شارع فیصل کے قریب پارکنگ ایریا سے چوری ہوئی تھی، اور اس وقت صدر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
انتظامیہ نے مزید بتایا کہ گاڑی کبھی برآمد نہیں ہوئی، مگر حال ہی میں حب ٹول پلازہ پر سیٹ بیلٹ کی خلاف ورزی کی مد میں ای چالان موصول ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں چوری شدہ موٹرسائیکل کا ای چالان، شہری حیران و پریشان
رواں برس اکتوبر سے نافذ العمل ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم کا مقصد ٹریفک چالان کے پرانے دستی ٹکٹنگ نظام کو مکمل طور پر خودکار ای ٹکٹنگ سسٹم سے بدلنا ہے۔

جدید نظام مصنوعی ذہانت سے منسلک سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے اوور اسپيڈنگ، ریڈ لائٹ کراسنگ، اور ہیلمٹ نہ پہننے جیسی خلاف ورزیوں کا پتا لگاتا ہے۔
تاہم، اس کے آغاز کے بعد سے یہ نظام بحث کا مرکز بن گیا ہے، اور نقادوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں اس پر عملدرآمد کے لیے مناسب سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں۔
مزید پڑھیں: ای چالان یورپ جیسا اور سڑکیں کھنڈر، کراچی کے شہریوں کی تنقید
ہوٹل انتظامیہ نے اس واقعے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمانہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب حکام چوری شدہ گاڑی کو برآمد کر کے واپس کریں۔
واضح رہے گزشتہ ماہ اسی طرح ایک موٹر بائیک کے مالک کو اپنی چوری شدہ بائیک کے لیے ای چالان موصول ہوا، جو 4 سال بعد بھی برآمد نہیں ہوسکی تھی۔
مالک نے بتایا کہ ان کی بائیک ٹیپو سلطان پولیس کے احاطے سے چوری ہوئی تھی، مگر انہیں 27 اکتوبر کو ہیلمٹ نہ پہننے کے مبینہ جرم میں 5 ہزار روپے کا ای چالان موصول ہوا تھا۔














