بھارتی آرمی چیف کے ’دھرم یُدھ‘ والے بیان پر نئی بحث چھڑ گئی، فوج میں مذہبی رنگ شامل ہونے پر تشویش

جمعرات 20 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویویدی کے حالیہ بیان نے بھارت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ  آپریشن سندور محض ایک عسکری کارروائی نہیں تھا بلکہ ایک دھرم یُدھ (مذہبی جنگ) تھا۔ اس بیان کو ملک کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں فوج کو ’مذہبی رنگ میں رنگنے‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بیان نے بھارتی فوج کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھا دیے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کو’دھرم یُدھ ‘ قرار دینا بھارت کی طویل عرصے سے قائم غیر سیاسی اور غیر مذہبی فوجی روایت سے انحراف ہے۔

یہ بھی پڑھیے بی جے پی سرکار پریشان، بھارت میں نریندر مودی کے خلاف آوازوں میں تیزی آنے لگ گئی

رپورٹس کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی الفاظ کا استعمال فوج کے اندر نظریاتی جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تاثر ملتا ہے کہ عسکری بیانیہ سیاسی نظریات یا اکثریتی مذہبی سوچ سے متاثر ہو رہا ہے؛ اور فوج جیسے ادارے کی غیر جانب داری متاثر ہو سکتی ہے۔

آپریشن ’سِندور‘ کے نام پر بھی اعتراضات

تنقید کرنے والوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’سِندور‘ کا نام ہندو مذہبی علامت سے منسوب ہے، جس سے عسکری مہم کو مذہبی یا ثقافتی شناخت کے ساتھ جوڑنے کا تاثر پیدا ہوا۔ بعض تجزیہ کاروں نے اس نام کو ’سفرو نائزیشن‘ یعنی ’ہندوتوا رنگ‘ دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔

نماز کے دوران کارروائی نہ کرنے کے بیان پر بھی ردِعمل

جنرل دویویدی نے مزید کہا کہ فوج نے آپریشن کے دوران  کبھی نماز کے وقت حملہ نہیں کیا۔جسے مخالفین نے ’بین السطور اسلاموفوبیا‘ قرار دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے جملے جنگ کو مذہبی زاویے سے پیش کرنے کا تاثر دیتے ہیں، جو تنازع کو علاقائی کے بجائے مذہبی رنگ دینے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیے ’پاکستانی افواج سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے میں آج بھی پہلے نمبر پر‘، بھارتی فوجی قیادت کی پریس کانفرنس پر صارفین کا ردعمل

بیان سیاسی فائدے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مذہبی یا جذباتی بیانات سیاسی ماحول میں ہندو ووٹر بیس کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عسکری کارروائیوں کو مذہبی بیانیے سے جوڑنا انتخابی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومتی یا فوجی ردِعمل؟

تا حال بھارتی حکومت یا فوج نے اس حوالے سے کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا، تاہم معاملہ تیزی سے ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان