بنگلہ دیش میں جمعہ کی صبح 5.7 شدت کے زلزلے نے کئی شہروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ متاثرہ شہروں میں ڈھاکہ، نرائن گنج، نرسنگدی اور غازی پور شامل ہیں۔
پرانی عمارتوں کی تباہی میں ہلاکتیں
پرانی ڈھاکہ کے علاقے میں ایک عمارت کی ریلنگ گرنے سے 3 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں رفیع الاسلام (تقریباً 20 سال)، عبد الرحمٰن (48) اور ان کا 12 سالہ بیٹا، مہرب حسین شامل ہیں۔
Bangladesh experienced an Earthquake – no damage done, but another wraning sign bit the dust! pic.twitter.com/SuHWQynzwq
— Revolt (@revolt_71) November 21, 2025
رفیع الاسلام سر سلیم اللہ میڈیکل کالج کا طالب علم تھا۔ عبد الرحمٰن، جو لکشمپور سے تعلق رکھتے تھے، اپنے خاندان کے ساتھ سوتراپور میں کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔
نرائن گنج کے روپ گنج علاقے میں ایک 10 ماہ کی بچی فاطمہ بھی دیوار گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہوئی۔ اس کے ساتھ موجود والدہ اور ایک اور عورت زخمی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:شیخ حسینہ واجد کی سزا پر بنگلہ دیشی عوام کیا کہتے ہیں؟
بین الصوبائی حکومت کے عبوری چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے جاں بحق افراد کے نقصان پاار گہری افسوس کا اظہار کیا۔
متعدد اضلاع میں بڑے پیمانے پر زخمی
متاثرہ علاقوں کے اسپتالوں نے زخمیوں کا علاج کیا۔ ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال میں کم از کم 10 زخمیوں کو داخل کیا گیا۔ غازی پور کے تاج الدین میڈیکل کالج اسپتال میں بھی 10 افراد کا علاج کیا گیا۔
نرسنگدی ڈسٹرکٹ اسپتال میں 45 زخمیوں کو داخل کیا گیا، جن میں سے 3 کو سنگین حالت میں ڈھاکہ منتقل کیا گیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں کم از کم 10 طلبہ زخمی ہوئے، کچھ طلبہ نے خوف کے باعث ڈارمیٹری سے چھلانگ لگائی۔
A strong earthquake struck Dhaka and several districts in Bangladesh earlier today. Bangladesh Red Crescent (@BDRCS1) teams were on the ground within minutes, supporting affected people and conducting assessments.@IFRC is closely monitoring the situation and ready to support. pic.twitter.com/bVkcYF4cgR
— IFRC Asia Pacific (@IFRCAsiaPacific) November 21, 2025
غازی پور کے سری پور علاقے میں زلزلے کے دوران ملٹی اسٹوری فیکٹری کی سیڑھیوں سے 150 سے زائد گارمنٹ ورکرز زخمی ہوئے۔ نرسنگدی میں ایک سنگل اسٹوری مکان کی چھت گرنے سے 3 افراد، بشمول 2 بچے، شدید زخمی ہوئے۔
مزید درجنوں افراد کو بے ہوشی، معمولی زخمیوں اور خوف کے حملوں کے علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔
زلزلے کا مرکز اور امدادی کارروائیاں
بنگلہ دیش میٹیرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے تصدیق کی کہ زلزلہ صبح 10:38 بجے آیا، جس کا مرکز مادھابدی، نرسنگدی تھا۔
محکمہ نے زلزلے کی شدت درمیانی (Moderate) بتائی، لیکن یہ پرانی عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی تھی، خاص طور پر گنجان آباد پرانی ڈھاکہ میں۔

متاثرہ اضلاع میں ریسکیو اور میڈیکل ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں جبکہ ایمرجنسی کنٹرول رومز بھی کھول دیے گئے ہیں تاکہ فوری امداد فراہم کی جا سکے۔












