پاکستان کے وزیراعظم کے زیر قیادت نجی شعبے کے اراکین پر مشتمل ورکنگ گروپس نے برآمدات پر مرکوز اہم سفارشات پیش کی ہیں، جن کے نتیجے میں برآمدات کے فروغ کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ
برآمدات پر عائد 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج کو فوری طور پر ختم کر دیا گیا، جس سے برآمد کنندگان کو براہِ راست مالی فائدہ اور عالمی مارکیٹ میں مقابلہ جاتی بہتری حاصل ہوگی۔
وزیرِ خزانہ کے مشیر خُرم شہزاد نے ’ایکس‘ کی گئی اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ نجی شعبے کے نمائندوں کی قیادت میں ایک عبوری اسٹیئرنگ کمیٹی PKR 52 ارب کی دستیاب ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (EDF) کے استعمال کی نگرانی کرے گی۔
Major Policy Decision for Pakistan’s Exports
Only days ago, some commentary questioned the Prime Minister’s decision to form private-sector-led Working Groups.
The speed of the first export-focused outcomes now speaks for itself. It underlines the value of structured, credible…
— Khurram Schehzad (@kschehzad) November 25, 2025
EDF کے وسائل صرف برآمدات کی مقابلہ جاتی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال ہوں گے، جیسے تحقیق و ترقی، ہنر کی تربیت، پیداواری صلاحیت اور مارکیٹ کو فعال کرنے والے اقدامات، جبکہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا جائے گا۔
خرم شہزاد کے مطابق یہ اقدام برآمدات کو قومی ترجیح قرار دینے کا واضح اصلاحاتی پیغام ہے۔ برآمدات پر ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ان کے فروغ کی جانب رجحان ظاہر کیا گیا ہے۔

نجی شعبے کی قیادت میں اصلاحات کی تشکیل اور حکومت کے وسائل کا ہدف صرف اثرانداز اور مقابلہ جاتی صلاحیت بڑھانے والے شعبے ہیں۔ EDF کے گزشتہ پانچ سال کے ریکارڈ کا بین الاقوامی معیار کے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جائے گا اور بہتر EDF گورننس کے لیے نجی شعبے کے سربراہ کی قیادت ہوگی۔
برآمد کنندگان کی بہتر معاونت اور عالمی مارکیٹنگ کے لیے TDAP کی تنظیم نو بھی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی کے چیئرمین عہدے سے مستعفی
مشیر خزانہ کے مطابق یہ حکومت اور نجی شعبے کے تعاون سے برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم اصلاحاتی اقدام ہے۔ دیگر شعبوں میں ٹیکس، توانائی اور پاور ٹیرف پر نجی شعبے کی قیادت میں ورکنگ گروپس پہلے ہی سفارشات پیش کر رہے ہیں، جس سے پائیدار مقابلہ جاتی صلاحیت، سرمایہ کاری میں اضافہ اور برآمدات پر مبنی مستحکم ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔













