بھارت نے کہا ہے کہ اسے بنگلہ دیش کی طرف سے سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست موصول ہوگئی ہے، اور اب عدالتی اور اندرونی قانونی عمل کے تحت اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ بھارت بنگلہ دیش کے عوام کے بہترین مفاد، بالخصوص امن، جمہوریت، استحکام اور شمولیت، کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد بھارت فرار ہونے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں رندھیر جیسوال نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا جائزہ جاری عدالتی اور داخلی قانونی عمل کے مطابق لیا جا رہا ہے۔
"It Is Being Examined": India On Bangladesh's Sheikh Hasina Extradition Request https://t.co/2Tj4iizEtS via @ndtv
India shouldn't even consider it on the account of the request coming in from an illegitimate government, period!
— Tika Kaar (@TheTikaKar) November 26, 2025
’ہم بنگلہ دیش کے عوام کے بہترین مفادات کے لیے پرعزم ہیں اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعمیری انداز میں مصروفِ عمل رہیں گے۔‘
بنگلہ دیش نے پہلی بار گزشتہ برس دسمبر میں اور پھر حال ہی میں شیخ حسینہ کو بین الاقوامی کرائم ٹربیونل نے جولائی 2024 کے مظاہروں سے متعلق انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے کے بعد یہ درخواست بھیجی ہے۔
مزید پڑھیں: شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ بھارت کے لیے باعث پریشانی کیوں؟
آئی سی ٹی نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے 2 قریبی ساتھیوں کو بھی سزا سنائی ہے، سابق وزیرِداخلہ اسد الزمان خان کمال کو سزائے موت اور وعدہ معاف گواہ بن جانیوالے سابق آئی جی پی چوہدری عبداللہ المامون کو 5 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد شیخ حسینہ نے ٹربیونل کو ’مسلّمہ طور پر متعصب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر منتخب عبوری حکومت کی زیرِ نگرانی چل رہا ہے جس کا کوئی جمہوری جواز نہیں۔
مزید پڑھیں:’سارا پھل ایک ٹوکری میں ڈال دیا‘ شیخ حسینہ واجد بھارت کے لیے درد سر بن گئیں
اپنے بیان میں شیخ حسینہ نے کہا کہ سزائے موت کے اس مکروہ مطالبے میں عبوری حکومت کے انتہاپسند عناصر کی کھلی قاتلانہ نیت ظاہر ہوتی ہے، جو بنگلہ دیش کی آخری منتخب وزیرِاعظم کو راستے سے ہٹانا اور عوامی لیگ کو ایک سیاسی قوت کے طور پر مٹانا چاہتے ہیں۔
’ڈاکٹر محمد یونس کی افراتفری، تشدد اور سماجی پسماندگی کی شکار حکومت کے تحت پسنے والے لاکھوں بنگلہ دیشی اپنے جمہوری حقوق چھیننے کی اس کوشش میں دھوکا نہیں کھائیں گے۔‘
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش سپریم کورٹ بار کا بھارت سے شیخ حسینہ واجد کو واپس بھیجنے کا مطالبہ
بدھ کو بنگلہ دیش کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس سے قبل بھیجی گئی حوالگی کی درخواست کا ’کوئی جواب‘ نہیں دیا تھا، تاہم اب انہیں توقع ہے کہ حالات بدلنے کے باعث بھارت جواب دے گا۔
امورِ خارجہ کے مشیر ایم توحید حسین نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ نئی دہلی ڈھاکا کی درخواست کے ایک ہفتے کے اندر جواب دیدے گی، لیکن امید ہے کہ جواب ضرور ملے گا۔
قانونی مشیر آصف نذرول نے بھی کہا کہ عبوری حکومت ’مفرور مجرموں‘ کی واپسی کے لیے ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔













