سری لنکا میں سیلاب اور زمین کھسکنے کے حادثات کے باعث اموات کی تعداد 56 ہو گئی ہے، جبکہ 600 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔
حکام کے مطابق، اس شدید صورتحال کے پیش نظر حکومت نے تمام سرکاری دفاتر اور اسکول بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:میکسیکو میں تباہ کن سیلاب، 130 افراد ہلاک یا لاپتا ہوگئے
سری لنکا میں شدید موسم کے اثرات گزشتہ ہفتے سے دیکھے جا رہے ہیں اور جمعرات کو موسلا دھار بارشوں کے باعث حالات مزید خراب ہو گئے تھے۔
At least 31 people have died in Sri Lanka after heavy rains triggered floods and landslides, with another 14 still missing.
Roads have been closed in affected areas, and overflowing rivers and reservoirs continue to block key routes.
Residents are urged to stay safe and move… pic.twitter.com/Dy6Ux2GtTr
— Volcaholic 🌋 (@volcaholic1) November 27, 2025
ان بارشوں نے گھروں، کھیتوں اور سڑکوں کو زیرِ آب کر دیا اور ملک کے مختلف حصوں میں زمین کھسکنے کے واقعات کو جنم دیا۔
گزشتہ روز دارالحکومت کولمبو سے تقریباً 300 کلومیٹر مشرق میں واقع اور چائے کی پیداوار کے لیے مشہور بادولا اور نوورا ایلیا کے وسطی پہاڑی علاقوں میں زمین کھسکنے کے باعث 25 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔

حکومت کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق، بادولا اور نوورا ایلیا میں مزید 21 افراد لاپتا اور 14 زخمی ہوئے ہیں، ملک کے دیگر حصوں میں بھی زمین کھسکنے کے واقعات میں مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
شدید موسم کے باعث زیادہ تر ڈیم اور دریاؤں میں پانی کی سطح حد سے تجاوز کر گئی ہے جس کی وجہ سے سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔

حکام نے کئی حصوں میں مسافر ٹرینیں روک دی ہیں اور سڑکیں بند کر دی ہیں، کیونکہ راستوں اور ریلوے ٹریکس پر پتھر، مٹی اور درخت گر گئے۔
مقامی ٹیلی ویژن پر جمعرات کو دیکھا گیا کہ فضائیہ کے ہیلی کاپٹر نے سیلاب سے گھِرے گھر کی چھت پر پہنچ گئے اور 3 افراد کو بچایا۔

جبکہ بحریہ اور پولیس نے کشتیوں کے ذریعے مقامی باشندوں کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔
جمعرات کو مشرقی شہر امپارہ کے قریب ایک گاڑی بھی سیلاب کے پانی میں بہہ گئی، جس کے نتیجے میں 3 مسافر جاں بحق ہوئے۔













