پاکستان کے دفترِ خارجہ (ایف او) نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کے 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
جمعے کو جنیوا میں جاری کیے گئے اپنے بیان میں انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا تھا کہ حالیہ آئینی ترمیم، جس طرح گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی گئی تھی، وکلا برادری اور وسیع تر سول سوسائٹی سے مشاورت اور بحث کے بغیر منظور کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جلد بازی میں منظور شدہ ترمیمیں عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہیں اور فوجی احتساب کے حوالے سے تشویش پیدا کرتی ہیں، پاکستان اس بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 27ویں آئینی ترمیم کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پیش کی گئی غیر معقول اور غلط تشویش پر گہری تشویش ہے، جو پاکستان کی پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی ہے۔
دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ تمام پارلیمانی جمہوری نظاموں کی طرح، تمام قوانین اور آئین میں کوئی بھی ترمیم عوام کے منتخب نمائندوں کے دائرہ اختیار میں رہتی ہے۔ ترجمان کے مطابق جمہوریت اور جمہوری طریقہ کار شہری اور سیاسی حقوق کی بنیاد ہیں اور انہیں ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ کی منظور شدہ آئینی ترامیم پاکستان کے آئین کے مطابق مکمل قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے کی گئی ہیں۔ پاکستان آئین میں درج انسانی حقوق، انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کو تحفظ دینے، فروغ دینے اور قائم رکھنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات، جے یو آئی (ف) کا حکومتی اقدامات سے اظہارِ لاتعلقی
دفترِ خارجہ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے کام کو اہمیت دیتا ہے، یہ افسوسناک ہے کہ جاری بیان میں پاکستان کے مؤقف اور زمینی حقائق کو شامل نہیں کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم ہائی کمشنر سے درخواست کرتے ہیں کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے خودمختار فیصلوں کا احترام کریں اور ایسے تبصرے سے گریز کریں جو سیاسی تعصب یا غلط معلومات پر مبنی ہوں۔
واضح رہے کہ حالیہ 27ویں آئینی ترمیم اس ماہ پارلیمنٹ میں سے منظور کی گئی، جس پر عوام اور قانونی حلقوں میں وسیع اعتراضات سامنے آئے۔ اہم خدشات میں عدلیہ کے نظام کی تشکیل نو کے لیے وفاقی آئینی عدالت کا قیام اور آرٹیکل 243 میں ترمیم شامل ہے، جس کے تحت آرمی چیف کو پاکستان کی مسلح افواج کے نئے چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔













