پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور مصر کے وزیرِ خارجہ محمد احمد بدر عبدالعاطی نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی، معاشی، دفاعی اور ثقافتی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم اور غزہ، کشمیر، افغانستان اور علاقائی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مصری وزیرِ خارجہ کا دورہ دونوں ممالک کے تاریخی، مذہبی اور دوستانہ تعلقات کا مظہر ہے۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت بڑھانے اور نئے تعاون کے شعبوں پر اتفاق ہوا۔
مزید پڑھیں: مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کی پاکستان آمد، اہم دوطرفہ امور پر مشاورت کریں گے
انہوں نے بتایا کہ موجودہ تجارت کا حجم 300 ملین ڈالر ہے، جسے بڑھانے کے لیے پاکستان مصر کو 250 بزنس ہاؤسز کی فہرست فراہم کرے گا جو 6 ماہ میں 500 تک بڑھا دی جائے گی۔ پاکستان مصر بزنس کونسل اور پاکستان مصر بزنس فورم قائم کیے جائیں گے، جن کا پہلا اجلاس اگلے سال قاہرہ میں ہوگا۔
انہوں نے الازہر یونیورسٹی کے لیے اسکالرشپس میں اضافے پر مصر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہاں پاکستانی علما کو انتہا پسندی کے خاتمے سے متعلق قرآن و سنت کی روشنی میں تربیت دی جائے گی۔ کہا کہ ہم جامعہ الازہر کو یہاں انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے انگیج کر سکتے ہیں۔
🔴LIVE: Joint Press Conference between the DPM/FM of Pakistan and FM of Egypt https://t.co/SwDM0PgBUq
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 30, 2025
مصری وزیرِ خارجہ نے اسلام آباد اور پشاور میں دہشتگرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا مقابلہ ناگزیر ہے اور مصر پاکستان کے ساتھ اپنا تجربہ شیئر کرے گا کہ کس طرح ایک جامع اور ہمہ جہت حکمتِ عملی کے ذریعے مصر نے دہشتگردی کو شکست دی۔
ان کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صرف سیکیورٹی اقدامات نہیں، بلکہ سماجی اور معاشی پہلوؤں پر بھی کام کیا گیا۔ مصر پاکستان کے ساتھ مل کر دہشتگردی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مصری وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مصر نے پاکستان کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا اور دونوں ممالک امن کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: نیڈرلینڈز نے مصر کو 3 ہزار 500 سال قدیم مجسمہ واپس کرنے کا اعلان کردیا
انہوں نے کہا کہ غزہ کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہیے اور فلسطین کی خود مختار ریاست کے قیام کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
مصری وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور مصر جیو پولیٹیکل مفادات کے ساتھ ساتھ مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بھی مضبوطی سے جڑے ہیں، اور دونوں ممالک عالمی فورمز پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے آج دونوں ملکوں کے تعلقات کو بڑھانے اور بہتر کرنے کے لیے ایک بہت جامع اور مؤثر منصوبہ بنایا ہے، ہمارا دفاعی اور سکیورٹی تعاون بہت بہترین ہے جس کے بارے میں زیادہ بات چیت نہیں کی جاتی، فیلڈ مارشل کے حالیہ دورۂ مصر کے دوران دفاعی اور سیکیورٹی اُمور پر تفصیلاً تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہم نے ایک ایمرجنسی پلان آف ایکشن بنایا ہے جس پر 6 سے 7 مہینے میں عمل درآمد ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مصری صدر سے ملاقات، دیرینہ دوستی کو مضبوط بنانے کا عزم کا اعادہ
مصری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اِس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بڑھانے، کنیکٹویٹی، گوادر اور مصری بندرگاہوں کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کے بارے میں بات چیت کی ہے، اسلام آباد اور قاہرہ کے درمیان براہِ راست پروازوں اور مصر کے کاروباری افراد کے لیے لاہور کو داخلی پوائنٹ بنانے پر بات کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور مصری صدر کے درمیان دونوں ملکوں کے مفاد میں تعلقات بڑھانے پر اِتّفاقِ رائے ہوا ہے۔














