چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے 58ویں یومِ تاسیس کی تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اسکردو، خیبر پختونخوا، پنجاب، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے جیالوں سے ایک ہی وقت میں مخاطب ہیں۔
پیپلز پارٹی کی جدوجہد اور تاریخ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ پاکستان کے ماضی اور مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک میں جمہوریت اور 1973 کے آئین کی بنیاد رکھی۔
ایک تحریک جس نے عوام کی آواز سے جنم لیا، ایک وژن جو مساوات، انصاف اور جمہوریت پر قائم ہے، اور ایک نعرہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا 58 واں یوم تاسیس خدمت، جدوجہد اور قربانیوں کا لازوال سفر @BBhuttoZardari#58YearsOfPPP pic.twitter.com/965qTajqie
— PPP (@MediaCellPPP) November 30, 2025
انہوں نے کہا کہ ہمارا فلسفہ ہے کہ ہم نے ملک کے متوسط اور پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرتے ہوئے انہیں معاشی طور پر مضبوط کرنا ہے۔ پیپلز پارٹی کی بنیاد اس نظریے پر رکھی گئی۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تو بینظیر بھٹو اپنے والد کی جدوجہد کو آگے لے کر چلیں اور 30 سال تک جدوجہد کی۔
بینظیر بھٹو کی قربانیاں
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے بنائے گئے آئین کی بحالی، جمہوریت کی بحالی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے لڑائی جاری رکھی۔ وہ 2 آمروں سے ٹکرا کر آخر کار لیاقت باغ میں جامِ شہادت نوش کر گئیں۔ پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو کی پارٹی کے پرچم کو گرنے نہیں دیا۔ صدر آصف علی زرداری نے وہ پرچم تھام کر 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کی بحالی کا تاریخی کام کیا۔
صدر زرداری کے اقدامات
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صدر زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے فلسفے سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بنیاد رکھی اور ملک کی غریب ترین عورتوں کو مالی مدد پہنچائی۔ صدر زرداری نے خیبر پختونخوا کا نام صوبے کو دیا اور بلوچستان کے لیے آغازِ حقوقِ بلوچستان شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کو حل کرنا اب آپ کی ذمہ داری ہے، بلاول بھٹو کا فیصل راٹھور سے مکالمہ
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے این ایف سی کی صورت میں تمام صوبوں کو حقوق دیے۔ مئی میں پاکستان اور بھارت کی جنگ ہوئی، جس میں پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی۔ ہماری بہادر افواج اور ایئر فورس نے بھارت کے 7 جہاز گرا کر دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، جس سے پاکستان کی عالمی سطح پر نئی شناخت بنی۔
قومی سلامتی اور موجودہ چیلنجز
ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ وقت، خارجہ پالیسی اور تمام افواج سمیت جن کرداروں نے بھارت کو شکست دینے میں حصہ ڈالا، پیپلز پارٹی ان سب سے مطمئن بھی ہے، خوش بھی ہے اور اس جیت کا جشن بھی مناتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک کے مخالفین آج بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی پھیلانے کی کوششیں ملک کو کمزور کرنے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ کارساز ملکی تاریخ کے عظیم سانحات میں سے ایک ہے، بلاول بھٹو زرداری
انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف بھارت کے ساتھ چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بھی تناؤ بڑھ رہا ہے۔ افغانستان کے دہشتگرد گروہوں سے روابط پر پاکستان کا عدم اطمینان بڑھ رہا ہے، جو ایک سنگین خطرہ ہے۔
سیاسی اتحاد کی ضرورت
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کارکنوں اور منتخب نمائندوں سے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن قومی سلامتی کے معاملے پر سب کو متحد ہونا ہوگا۔ پاکستان کو دہشتگردوں اور دشمن پڑوسیوں کا مقابلہ مشترکہ قوت سے کرنا ہے، تاکہ کوئی بھی ہمارے داخلی اختلافات سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
قانون سازی اور آئینی معاملات
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے حال ہی میں حکومت کے ساتھ مل کر ایک اہم بل منظور کیا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ ملک میں انقلابی اور تاریخی قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی نے 1973 کے متفقہ آئین کی بنیاد رکھی، جو آج بھی پاکستان کا اصل آئین ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی قومی اسمبلی میں گھن گرج، کس کے لیے کیا پیغام تھا؟
ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم نے صوبوں کو سیاسی، معاشی اور انتظامی خودمختاری دی، جو 1973 کے آئین کے بعد سب سے بڑی اتفاقِ رائے پر مبنی ترمیم ہے۔ بلاول بھٹو کے مطابق 18ویں ترمیم اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے کچھ وعدے ابھی باقی ہیں جنہیں پورا کرنے کی کوشش جاری ہے۔
صوبوں کے حقوق اور این ایف سی
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کبھی ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جس سے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر وفاق کو کمزور کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اٹھارویں ترمیم یا این ایف سی سے کھیلنے والے آگ سے کھیل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ کے بارے میں غلط بیانی کر رہا ہے اور افغانستان کو پاکستان کے خلاف اکسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک کے اندر موجود فالٹ لائنز ختم کرنا ہوں گی تاکہ بیرونی سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ان کے مطابق سندھ سے لے کر بلوچستان اور خیبر پختونخوا تک، جو بھی پاکستان کے خلاف سازش کرے گا، اس کا سب سے پہلے مقابلہ پیپلز پارٹی کے کارکن کریں گے۔
معاشی اختیارات کی منصفانہ تقسیم
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صوبوں کے معاشی شیئر میں کمی سے وفاق کمزور ہوگا۔ پاکستان کے صوبوں کے عوام کے خون پسینے سے ملک کی معیشت چلتی ہے، اس لیے معاشی اختیارات کی درست تقسیم ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئینی ترمیم کے دوران این ایف سی سے متعلق تجاویز بھی سامنے آئیں اور وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ صوبوں کو ان کا معاشی حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، مگر تمام صوبوں کو مل کر بیرونی طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
معاشی حالت اور قومی دفاع
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کوئی بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ پاکستان کی معیشت میں ہر خطے کا حصہ شامل ہے، اور وفاق کا حصہ بھی صوبوں کی معیشت ہی سے بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قائدِ عوام کے دور میں بھی پیپلز پارٹی نے کہا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ملک کے دفاع کے لیے ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ آج بھی ہم ملک کے دفاع کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، چاہے وہ ٹیکس کی صورت میں ہوں یا ترقیاتی اقدامات کی شکل میں۔
ہم اپنے صوبے کو مزید بااختیار بنانا چاہتے ہیں
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم اپنے صوبے کو مزید بااختیار بنانا چاہتے ہیں۔ ہم ثابت کر دیں گے کہ ہم سب نہ صرف معاشی بلکہ سفارتی طور پر بھی مضبوط بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اندرونی سیاسی اختلافات کی ایسی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس وقت ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا شخص دوسری جماعت سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ ہمیں سب کو مل کر ملک کو اندرونی سیاسی بحران سے نکالنا ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ ہم آپس میں الجھتے رہیں اور پاکستان مخالف عناصر اس کا فائدہ اٹھا لیں۔ سیاست میں مثبت انداز ہونا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہم نے اپنی تاریخ میں دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے۔ جہاں جہاں دہشت گردی نے سر اٹھایا، ہماری فورسز نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کا کامیاب مقابلہ اس وقت ہوتا ہے جب ملک میں سیاسی جماعتوں اور عوام کا مضبوط سپورٹ موجود ہو۔ اگر ملک کے کسی حصے میں احساس محرومی ہے تو وفاق کو اسے دور کرنا چاہیے۔
ہم سوفٹ اور ہارڈ پاور کے ذریعے ایک بار پھر تاریخ رقم کریں گے
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم سوفٹ اور ہارڈ پاور کے ذریعے ایک بار پھر تاریخ رقم کریں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں میں وہ صلاحیت موجود ہے جو ملک کا نام روشن کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت اور وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر ملک کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔












