جاپان کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے جدید کیپسول طرز کی ‘انسانی واشنگ مشین’ مارکیٹ میں متعارف کرائی ہے، جس نے اوساکا کے عالمی ایکسپو میں خاصی توجہ حاصل کی تھی۔
یہ کیپسول صارفین کو اندر لیٹنے اور ڈھکن بند کرنے کی سہولت دیتا ہے، اس کے بعد وہ مکمل آرام کے ساتھ جسمانی صفائی کا لطف اٹھا سکتے ہیں اور پرسکون موسیقی کے ساتھ آرام دہ تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈینیئل برون کی گیئرریڈیکشن مشین کی ایجاد نے دُنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا
اس مشین کو ‘مستقبل کی انسانی واشر’ کے نام سے بھی جانا جا رہا ہے۔ 6 ماہ تک جاری رہنے والے اوساکا ایکسپو کے دوران، جس میں 27 ملین سے زائد زائرین شامل ہوئے، اس نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ یہ مشین 1970 کے اوساکا ایکسپو میں پیش کی گئی ایک مشین کا جدید ورژن ہے، جسے کمپنی کے موجودہ صدر نے بچپن میں دیکھا تھا۔
کمپنی کی ترجمان سچیکو مائیکورا کے مطابق، یہ مشین صرف جسمانی صفائی ہی نہیں بلکہ ‘روح کی صفائی’ بھی کرتی ہے اور دوران استعمال صارف کے دل کی دھڑکن اور دیگر اہم علامات کو سینسرز کے ذریعے مانیٹر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گھروں میں موجود روزمرہ استعمال کے برقی آلات آپ کے بل پر کیسے اثرانداز ہوتے ہیں؟
اوساکا کے ایک ہوٹل نے پہلے یونٹ کی خریداری کی ہے تاکہ اپنے مہمانوں کو یہ منفرد سروس فراہم کی جا سکے۔
انسانی واشنگ مشین کیسے کام کرتی ہے؟
۔کیپسول میں داخلہ: صارف 2.3 میٹر طویل کیپسول میں لیٹتا ہے۔
۔خودکار صفائی: مشین مائیکروببلز اور باریک جھرمٹ کے ذریعے جسم کو نرم طریقے سے صاف کرتی ہے۔
۔صحت کی نگرانی: سینسرز دورانِ صفائی صارف کی حیاتیاتی علامات کو ٹریک کرتے ہیں۔
۔آرام دہ تجربہ: صفائی کے دوران پرسکون مناظر اور موسیقی چلائی جاتی ہے۔
۔خشک کرنا: صفائی کے بعد مشین خودکار طریقے سے جسم کو خشک کرتی ہے۔
۔ترو تازہ باہر نکلنا: تقریباً 15 منٹ میں صارف مکمل طور پر صاف، آرام دہ اور مانیٹر شدہ حالت میں باہر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اب اے آئی ہڈی کے فریکچر کی تشخیص بھی کرے گی، یہ ایکس رے مشین سے مخلتف کیسے؟
جاپان کے الیکٹرانکس ریٹیلر یماڈا نے بھی ایک یونٹ خرید لیا ہے، جسے 25 دسمبر سے ڈسپلے اور تجربہ کارنر کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ کمپنی اس کی محدود تعداد میں صرف 50 یونٹس تیار کرے گی۔ مقامی میڈیا کے مطابق قیمت تقریباً 60 ملین ین (تقریباً 385,000 ڈالر) رکھی گئی ہے۔
کمپنی کے چیئرمین یاسوآکی آویاما کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ لوگ جو ایکسپو میں نہیں آ سکے، وہ بھی اس جدید ٹیکنالوجی کا تجربہ کر سکیں۔












