امریکی ہوم لیںڈ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ وفاقی امیگریشن حکام نے ورجینیا میں ایک افغان شہری کو گرفتار کرلیا ہے، جو بائیڈن انتظامیہ کے ’آپریشن الائیز ویلکم‘ پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا۔
حکام کے مطابق گرفتار افغان شہری جان شاہ صافی پرداعش-خراسان کی حمایت کرنے اوراپنے والد کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام ہے، جنہیں افغانستان میں ایک ملیشیا کمانڈر بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں پکڑا گیا لقمان خان پاکستانی نہیں افغان شہری ہے، ترجمان دفتر خارجہ
محکمہ کے مطابق، گرفتارافغان شہری 2021 میں امریکا آیا تھا اور اسے 3 دسمبر کو حراست میں لیا گیا۔
US federal immigration agents arrested #Afghan national Jaan Shah Safi for allegedly providing support to #ISIS-K (#ISKP) and supplying weapons to his father, a militia commander in Afghanistan. He entered US under Biden’s Operation Allies Welcome program.https://t.co/rJs4Jz82Lk pic.twitter.com/bZQtBmqzAX
— SAMRIReports2 (@SReports2) December 3, 2025
اہم وجہ
صافی کی گرفتاری ان افغان شہریوں کی حالیہ گرفتاریوں کی تازہ مثال ہے جنہیں امریکا میں داخل ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا۔
یہ واقعہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد داخل ہونے والے مہاجرین اورامیگرینٹس کے ویٹنگ کے معاملے پر سیاسی بحث میں شدت کا باعث بن رہا ہے۔
سابقہ ٹرمپ انتظامیہ نے بائیڈن انتظامیہ پر مہاجرین کی مکمل جانچ نہ کرنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ سابق ہوم لینڈ ڈیپارٹمنٹ حکام کا کہنا ہے کہ نئے آنے والوں سے سخت سوالات اورپس منظرکی جانچ کی گئی تھی۔
مزید معلومات
ہوم لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے بدھ کو اعلان کیا کہ امریکا کی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای اور ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز کے حکام نے صافی کو ویزنسبورو، ورجینیا میں حراست میں لیا، ان پر داعش-خراسان کی حمایت کرنے کا الزام ہے۔
افغان شہری 8 ستمبر 2021 کو امریکا آیا تھا، ہوم لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، بائیڈن انتظامیہ کے ’آپریشن الائیز ویلکم‘ کے تحت، پہلے وہ فلاڈیلفیا میں مقیم رہا اور عارضی حفاظتی حیثیت کے لیے درخواست دی، لیکن بعد میں سیکریٹری ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوم کی زیر نگرانی مذکورہ حیثیت ختم کر دی گئی۔
مزید پڑھیں: امریکا: افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل
صافی کے مبینہ جرائم کی مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں، لیکن ہوم لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے اس کی گرفتاری کو حالیہ دنوں میں گرفتار کیے گئے 2 دیگر افغان شہریوں کے ساتھ جوڑ کر بتایا۔
25 نومبر کو، محمد داوود الوکوزے، جو اسی پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا، کو فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں گرفتار کیا گیا، ان پر ٹک ٹاک پر بم دھمکی دینے کا الزام تھا۔
مزید پڑھیں: امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں یکطرفہ حملہ آور ڈرون فورس تعینات کرنے کا اعلان
اگلے روز رحمان اللہ لکنوال کو واشنگٹن ڈی سی میں 2 نیشنل گارڈ افسران پر فائرنگ کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا، جس میں آرمی اسپیشلسٹ سارہ بیکسٹرم ہلاک اور اسٹاف سارجنٹ اینڈریو وولف اسپتال میں علاج کے مراحل میں تھے۔
اس واقعہ کے بعد بائیڈن کے افغانستان سے انخلا اور اس پروگرام پر تنقید دوبارہ شدت اختیار کر گئی، جس کے تحت کئی ہزار مہاجرین امریکا آئے، جن میں سے بیشتر نے 2001 کے بعد امریکی افواج کی مدد کی تھی۔
ہوم لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے افغانستان کے علاوہ صدر ٹرمپ کے ٹریول بین میں شامل 18 دیگر ممالک کے شہریوں کے لیے امیگریشن درخواستوں، گرین کارڈ اور شہریت کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔
اہم تبصرہ
سیکریٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی کرسٹی نوم کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے امریکی تاریخ کے سب سے بدترین قومی سلامتی بحران پیدا کیے۔ بائیڈن نے تقریباً 190,000 بغیر جانچ پڑتال کے افغان شہریوں کو امریکا میں داخل ہونے دیا، یہ معلوم کرنے کے لیے کہ وہ کون ہیں اور ان کے ارادے کیا ہیں، جب وہ پہلے ہی امریکی سرزمین پر تھے۔
مزید پڑھیں: امریکا میں ایک اور افغان نژاد شخص گرفتار، سوشل میڈیا پر بم بنانے کی دھمکی دینے کا الزام
’صدر ٹرمپ 20 جنوری سے ہر روز اس غیر معمولی قومی سلامتی بحران کو درست کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘
ہوم لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے آپریشن الائیز ویلکم کے تحت امریکا میں داخل ہونے والے افراد پر سخت نگرانی اور کارروائی کا وعدہ کیا ہے، لہذا آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مزید گرفتاریوں اور ویزا منسوخی کی توقع ہے۔














