جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 3 رکنی فل بینچ نے 27 ویں آئینی ترمیم 2025 کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔
مذکورہ 3 رکنی بینچ میں جسٹس جواد حسن اور جسٹس سلطان تنویر بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم، آئینی عدالت کے قیام سے متعلق اہم نکات سامنے آگئے
درخواست گزار منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ترمیم آئین کے دیباچے کیخلاف ہے۔
ان کے مطابق، اس سے سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی کی کوشش کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: عدالتی نظام درست کرنے کے لیے آئینی ترمیم وقت کی ضرورت ہے، بلاول بھٹو
وکیل نے مزید کہا کہ ترمیم سے عدالتی آزادی کو خطرہ لاحق ہوا اور صوبوں کی مشاورت کے بغیر آئینی ڈھانچے کو متاثر کیا گیا ہے۔
عدالت نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کوآئین کے آرٹیکل 174 کو پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے بتایا کہ آئین کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو لازمی طور پر فریق بنایا جائے۔
مزید پڑھیں: آئینی ترمیم کا مقصد عمران خان کو فوجی عدالتوں سے سزا دلوانا ہے،,سلمان اکرم راجا
وکیل اظہر صدیق نے عدالت سے متعلقہ فریق کو ہاتھ سے لکھ کر شامل کرنے کی درخواست کی۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس کیس میں ہاتھ سے لکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: 27 ویں ترمیم کے خلاف کنونشن بدمزگی کا شکار، کیا وکلا تقسیم ہیں؟
عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ درخواست آئینی ترامیم کو چیلنج کرتی ہے، اس لیے اس پر سماعت بھی آئین کے مطابق ہی ہوگی۔
عدالت نے درخواست میں ترمیم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔













