وزیراعظم شہباز شریف کا ملائیشیا کے وزیراعظم سے سمندری طوفان اور سیلاب سے ہوئے نقصانات پر اظہار یکجہتی

جمعہ 5 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ٹیلیفون پر ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم سے رابطہ کیا اور حالیہ سمندری طوفان اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر اظہار یکجہتی کیا۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا میں 16 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے

وزیراعظم نے پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے ملائشین عوام کے لیے تعزیت اور دعائیہ جذبات کا اظہار کیا، خاص طور پر جان بحق ہونے والوں اور زخمی اور بے گھر ہونے والے شہریوں کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں ملائشیا کی امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا اور ضرورت پڑنے پر فوری معاونت پیش کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا کے قریب روہنگیا مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، 7 ہلاک، سینکڑوں لاپتا

ملائیشیا کے وزیراعظم نے پاکستان کی ہمدردی اور تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں