پینگوئنز کا وجود خطرے میں: جنوبی افریقہ میں 60 ہزار ہلاکتیں، وجہ کیا ہے؟

جمعہ 5 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی افریقہ کے ساحل کے قریب پائی جانے والی پینگوئن کالونیوں میں خوراک کی شدید کمی کے باعث 60 ہزار سے زائد پینگوئنز بھوک سے مر گئے۔

یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا میں شاہی پینگوئن کی آبادی میں خطرناک حد تک کمی کا سبب کیا ہے؟

یہ انکشاف یونیورسٹی آف ایکسیٹر اور جنوبی افریقہ کے محکمہ جنگلات کی مشترکہ تحقیق میں کیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق ’پِلچرڈ‘ یا ’سارڈین‘ مچھلیوں کی آبادی میں بڑی کمی نے ان پینگوئنز کے لیے خوراک کی دستیابی تقریباً ختم کردی۔

سنہ 2004 سے سنہ 2012 کے دوران ڈیسن آئی لینڈ اور روبن آئی لینڈ کی منتخب افزائشی کالونیوں میں 95 فیصد افریقی پینگوئنز ہلاک ہوگئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے گارجین کے مطابق یہ اموات عموماً مولٹنگ (پَر بدلنے) کے دوران بھوک کے باعث ہوئیں اور تحقیق نے اس بحران کو براہ راست ماحولیاتی تبدیلی اور زیادہ ماہی گیری سے جوڑا ہے۔

نتائج ایک علاقے تک محدود نہیں

تحقیق کے مطابق نقصانات کسی ایک کالونی تک محدود نہیں بلکہ وسیع علاقے میں وقوع پذیر ہوئے۔

مزید پڑھیے: انٹارکٹیکا کے پینگوئنز بھی ٹرمپ ٹیرف متاثرین میں شامل

یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ماہر ڈاکٹر رچرڈ شرلی نے بتایا کہ افریقی پینگوئن کی آبادی گزشتہ 30 سال میں تقریباً 80 فیصد کم ہوچکی ہے۔

مولٹنگ کے دوران فاقے سے موت

افریقی پینگوئنز کے گھنے پروں کی ساخت انہیں سردی اور پانی سے محفوظ رکھتی ہے مگر جب وہ اپنے پر تبدیل کرتے ہیں تو انہیں تقریباً 21 دن تک زمین پر رہنا پڑتا ہے اور اس دوران وہ کھانا نہیں کھاتے۔

مزید پڑھیں: لندن کے سی لائف ایکویریم میں پینگوئنز کی طویل قید، برطانوی ارکان پارلیمان کا رہائی کا مطالبہ

ڈاکٹر شرلی کے مطابق اگر مولٹنگ سے پہلے یا فوراً بعد خوراک نہ ملے تو وہ فاقے جیسے دورانیے میں زندہ نہیں رہ پاتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں عام طور پر بڑی تعداد میں لاشیں نہیں ملتیں اور لگتا ہے کہ وہ زیادہ تر سمندر میں ہی مر جاتے ہیں۔

مچھلیوں کی آبادی میں خطرناک کمی

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال جنوبی افریقی ساحل کے قریب سارڈین مچھلیوں کا ذخیرہ اپنی سابقہ بھرپور مقدار کے مقابلے میں صرف 25 فیصد تک رہ گیا ہے۔

سمندر میں ’جھاڑو پھیرنے‘ کا نقصان دہ عمل

سمندری درجہ حرارت میں تبدیلی اور پانی کے نمکین ہونے نے بھی مچھلیوں کی افزائش کو بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ اس کے باوجود علاقے میں کمرشل فشنگ بدستور جاری ہے۔

کمرشل ’سیننگ‘ میں بڑی جالیاں ڈال کر مچھلیوں کے پورے گروہوں کو گھیر لیا جاتا ہے اور یہ عمل جنوبی افریقہ کی 6 بڑی پینگوئن کالونیوں کے آس پاس عام ہے۔

قدرتی تحفظ کے اقدامات

ماہرین اب چوزوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مصنوعی گھونسلے بنا رہے ہیں مگر تحقیق کے مطابق چھوٹی مچھلیوں کے کم ہوتے ذخائر کا مسئلہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ نہ صرف پینگوئنز کے لیے بلکہ ان تمام انواع کے لیے بھی اہم ہے جو انہی مچھلیوں پر انحصار کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp