وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلاؤ ہماری جانب سے پھیلائی جانے والی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے براہِ راست نتائج ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی ادارہ برائے تحفظِ قدرت (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے زیرِ اہتمام دریائے سندھ کی ڈولفن کے تحفظ کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دریا کنارے زمینیں طاقتور طبقے کے قبضے میں ہیں، مصدق ملک
انہوں نے دریائے راوی کے پانی کے شدید آلودہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پانی اب زراعت کے لیے بھی قابلِ استعمال نہیں رہا، حالیہ سیلابوں کے باعث ہونے والا معاشی نقصان مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 9.5 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔

مصدق ملک نے کہا کہ ان موسمیاتی آفات کی انسانی قیمت اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے، گزشتہ 4 بڑے سیلابوں کے دوران 4,700 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 17,000 سے زائد افراد معذور ہو چکے ہیں۔
انہوں نے ملک نے دریائے سندھ کی ڈولفن کے تحفظ کے لیے ڈبلیو ڈبلیو ایف کی دیرینہ خدمات کو سراہتے ہوئے وزارت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے راوی نے پاک بھارت سرحدی تمیز مٹا دی، شدید طغیانی 30 کلومیٹر طویل بارڈر بہا لے گئی
انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔
مصدق ملک نے اس امر پر زور دیا کہ دریائے سندھ کی ڈولفن کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ زندگی اور انسانیت کے تحفظ کا معاملہ ہے۔














