میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ ایک ایک پائی کراچی شہر کی ترقی و بحالی پر خرچ کی جائے گی، ہمارا مقصد ووٹ کاٹنا نہیں بلکہ لوگوں میں امید جگانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امن و محبت کی دھرتی سندھ کی ثقافت کے دلکش رنگ
میئر کراچی نے سندھ سمیت دنیا بھر میں بسنے والے سندھیوں کو سندھی کلچر ڈے کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ دھرتی امن اور محبت کرنے والوں کی ہے۔ میئر نے اپنے پیغام میں امن، محبت اور اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے پرانے شہر کے برتن گلی، کھجور مارکیٹ اور جونا مارکیٹ کے علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں روزانہ کروڑوں روپے کی تجارت ہوتی ہے اور اطراف میں 100 سے زائد سالہ پرانی عمارتیں موجود ہیں۔
میئر کراچی نے کہا کہ جب کوئی چیز پرانی ہوتی ہے تو لوگ اسے بھول جاتے ہیں، اور اس علاقے کی عوام کو بیشتر مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے کا سیوریج اور نکاسی آب کا نظام تباہ حالی کا شکار تھا، اور یہاں پیپلز پارٹی کا صرف ایک کونسلر موجود ہے جس نے مقدمات میں بلدیہ کے ساتھ مخالفت کی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کے ایم سی کی سڑکوں پر پارکنگ فیس ختم، میئر کراچی نے عوام کو خوشخبری سنا دی
میئر نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے وعدہ کیا ہے کہ گلی محلوں کو درست کیا جائے گا اور ایک ایک پائی کراچی شہر کی ترقی و بحالی پر خرچ کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ چار بازاروں میں سیوریج لائنز ڈالی گئی ہیں اور سڑکوں پر 2 لاکھ 20 ہزار اسکوائر فٹ پیور لگایا گیا۔ میئر کے مطابق تاجر برادری اور مقامی مکین ان سڑکوں کی تعمیر سے خوش ہیں اور نکاح کی تقریبات کے لیے بھی لوگ انہی سڑکوں پر آتے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 15 دسمبر تک اسی علاقے کے لیے ایک اور اسکیم لارہے ہیں اور 50 کروڑ روپے مزید سڑکوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ لیاری ٹاؤن کی اندرونی گلیوں کی تعمیر کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں جبکہ ملیر میں ڈیڑھ ارب روپے سے فلائی اوور تعمیر ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت سے 100 ارب روپے کے حصول میں تعاون کریں، میئر کراچی کا گورنر سندھ کو خط
انہوں نے کہا کہ شاہ فیصل کالونی سے ایئرپورٹ تک ایک اور برج بنایا جائے گا اور لی مارکیٹ اور ایمپریس مارکیٹ کی ازسرنو تعمیر بھی جاری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نیو کراچی، بلدیہ، منگھو پیر سمیت دیگر علاقوں میں بھی کام ہورہا ہے۔ 31 دسمبر تک پرانی حب کینال مکمل ہو جائے گی اور بلاول بھٹو سیوریج واٹر پلانٹ کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔ منعم ظفر کے افتتاح کردہ ایک سڑک کا فنڈ سندھ حکومت نے دیا تھا۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ماہانہ فی یوسی 5 لاکھ سے 12 لاکھ روپے دیے جاتے ہیں اور پھر بھی کہا جاتا ہے کہ کچھ نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کام ہمارا ہوتا ہے اور تختی منعم صاحب کی لگادی جاتی ہے، ہمارا مقصد ووٹ کاٹنا نہیں بلکہ لوگوں میں امید جگانا ہے۔ انہوں نے نارتھ ناظم آباد کی شاہراہ نورجہاں کی تعمیر کا ذکر بھی کیا اور شکریہ کے بینر جماعت اسلامی کی جانب سے لگائے جانے کی بات بتائی۔














