سعودی پرو لیگ مبینہ طور پرفٹبالرمحمد صلاح کو اپنی لیگ میں لانے کے لیے 200 ملین ڈالر مالیت کا غیر معمولی پیکیج تیار کررہی ہے، جو مصری اسٹار کو فٹبال کی تاریخ کا مہنگا ترین کھلاڑی بنا دے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب محمد صلاح کے حالیہ غصے اور مسلسل تیسرے میچ میں بیک پر بیٹھائے جانے کے بعد مصری فٹبالر اور لیورپول کے درمیان معاملات کشیدگی کی جانب مائل ہورہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصری اسٹرائیکر محمد صلاح نے تیسری بار ’پلیئر آف دی ایئر‘ ایوارڈ جیت لیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ٹرانسفر آئندہ گرمیوں کے بجائے جنوری میں بھی ممکن ہوسکتا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگ اپنی ریکارڈ توڑ پیشکش کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے تیار ہے۔
🚨 𝗕𝗥𝗘𝗔𝗞𝗜𝗡𝗚: Al-Ittihad are preparing to launch a world-record £215m bid for Mo Salah to test Liverpool’s resolve one final time. 🇸🇦
The belief is that because the Saudi Pro League transfer window closes on Thursday, it gives Al-Ittihad plenty of time to sign the most… pic.twitter.com/voKMjLZCfO
— Transfer News Live (@DeadlineDayLive) September 5, 2023
اس پیشکش میں سالانہ 150 ملین پاؤنڈ تنخواہ، سعودی ٹورازم ایمبیسیڈر کا سرکاری کردار، مستقبل میں کسی کلب میں جزوی ملکیت اورعرب خطے میں محمد صلاح کی فٹبال سرمایہ کاری کے لیے مکمل تعاون شامل ہے۔
یہی تجویز اس وقت بھی دی گئی تھی جب صلاح نے اپنے معاہدے کی تجدید کی تھی اورتوقع تھی کہ یہ 2026 میں دوبارہ سامنے آئے گی، تاہم موجودہ بحران اس ڈیل کو تیز کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی حملے میں شہید فلسطینی فٹبالر کی یاد میں یوئیفا کا بیان تنقید کی زد میں
لیورپول کی جانب سے لیڈز کے خلاف دوبارہ بیک پر بٹھائے جانے کے بعد صلاح کی مایوسی اپنی انتہا کو پہنچ گئی، انہوں نے شکوہ کیا کہ انہیں مسلسل تیسرے میچ میں بینچ پر بٹھا کر ’بس کے نیچے پھینک دیا گیا‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیزن کے خراب آغاز کا تمام ملبہ ان پر ڈال کر انہیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، جس سے کلب میں ان کے مستقبل پر سنجیدہ سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں:فٹبال ورلڈ کپ 2026 کس خطرے سے دوچار، ماہرین نے کیا بتایا؟
’ایسا لگتا ہے کہ کلب نے مجھے بس کے نیچے پھینک دیا ہے، یہی میرا احساس ہے، بہت واضح ہے کہ کوئی چاہتا تھا کہ سارا الزام مجھ پر آئے۔‘
محمد صلاح نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ وہ شخص کون ہے، اب فٹبال دنیا کی نظریں جنوری کی ونڈو پر ہیں، کیا یہ جدید دور کی سب سے چونکا دینے والی ٹرانسفر ثابت ہوگی؟














