بھارت کی ریاست پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیش آنے والا ایک حیران کن واقعہ اس وقت نیا رخ اختیار کر گیا جب 2 ماہ قبل مبینہ طور پر اپنے ہی والد کے ہاتھوں نہر میں پھینکی جانے والی 17 سالہ لڑکی زندہ واپس آ گئی۔
اتوار کے روز میڈیا کے سامنے پیش ہو کر لڑکی نے اپنی دردناک کہانی سنائی اور اپنے والد کی رہائی کی اپیل بھی کر دی۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
29 ستمبر کو یہ المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب لڑکی کے والد، سرجیت سنگھ، نے اس کے ’کردار‘ پر شک کرتے ہوئے اس کے ہاتھ رسّی سے باندھے اور گھر والوں کے سامنے نہر میں دھکا دے دیا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: بیٹی کو قتل کرکے خود کشی کا رنگ دینے والا باپ گرفتار
واقعے کے بعد لڑکی کے کزن کی مدعیت میں فیروزپور سٹی پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے سرجیت سنگھ کو گرفتار کر لیا تھا۔ وہ 2 ماہ سے جیل میں عدالتی ریمانڈ پر ہے۔
لڑکی کیسے بچ نکلی؟
میڈیا سے گفتگو میں لڑکی نے بتایا کہ نہر کا تیز بہاؤ اسے دور تک بہا لے گیا۔ اسی دوران جس رسّی سے اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، وہ ڈھیلی پڑ گئی۔ کچھ ہی فاصلے پر اس کا سر ایک لوہے کی سلاخ سے ٹکرایا، جسے تھام کر وہ نہر کے کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
3 راہگیروں نے اسے باہر نکالا اور اسے طبی امداد فراہم کی۔ تاہم لڑکی نے یہ نہیں بتایا کہ 2 ماہ تک وہ کہاں رہی، البتہ اس کا کہنا تھا کہ وہ بیمار تھی اور علاج کرواتی رہی۔
’والد کو رہا کیا جائے، میری بہنوں کا کوئی سہارا نہیں‘
لڑکی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے والد کی رہائی کی اپیل کی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی چھوٹی بہنوں کا باپ کے سوا کوئی سہارا نہیں۔ ساتھ ہی اس نے الزام لگایا کہ اس کی ماں نے بھی غصے اور نشے میں دھت والد کو مزید اکسایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے شوہر کو کیسے قتل کیا جائے؟ بھارتی خاتون نے یوٹیوب سے طریقہ سیکھ کر ’کامیاب واردات’ کر ڈالی
لڑکی نے پولیس سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست بھی کی اور کہا کہ اسے اپنے رشتے داروں پر بھروسہ نہیں ہے۔
مقدمے کی نوعیت تبدیل ہونے کا امکان
لڑکی کے سامنے آنے اور اس کے بیان کے بعد پولیس نے تفتیش دوبارہ شروع کر دی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قتل کے مقدمے کو تبدیل کر کے اقدامِ قتل میں ڈھال دیا جائے گا۔














