جیو اسٹار کا میڈیا رائٹس معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ، آئی سی سی مالی بحران کا شکار

منگل 9 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ جیو اسٹار(Jio Star) نے باضابطہ طور پر تنظیم کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ بھارت میں آئی سی سی ایونٹس کے نشریاتی حقوق کے معاہدے کے بقیہ 2 سال جاری نہیں رکھ سکتی۔ اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جیو اسٹار نے موجودہ 4 سالہ معاہدے میں بھاری مالی نقصانات کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا ہے۔

انڈسٹری ذرائع کے مطابق جیو اسٹار کی قبل از وقت دستبرداری نے 2024–27 کے رائٹس سائیکل کو ادھورا چھوڑ دیا ہے، جس کے بعد یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ آئندہ آئی سی سی ایونٹس خصوصاً ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026، جس کی میزبانی بھارت کرے گا، بھارت میں کیسے نشر یا اسٹریم ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے ’کیا جے شاہ نے ورلڈ کپ جیتا ہے؟‘، ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے پرومو میں 11 مرتبہ دکھائے جانے پر آئی سی سی پر تنقید

اس صورتحال کے پیشِ نظر آئی سی سی نے 2026–29 کے نشریاتی حقوق کے لیے نئے سرے سے فروخت کا عمل شروع کر دیا ہے اور اس سے تقریباً 2.4 ارب ڈالر حاصل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ اس حوالے سے سونی پکچرز نیٹ ورکس انڈیا (ایس پی این آئی)، نیٹ فلکس اور ایمیزون پرائم سمیت متعدد بڑے پلیٹ فارمز سے رابطے کر چکا ہے، تاہم مہنگے پیکج کے باعث کوئی بھی پلیٹ فارم فی الحال معاہدہ کرنے پر تیار نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جیو اسٹار نے 2024–25 میں اپنے اسپورٹس کنٹریکٹس میں ممکنہ نقصانات کا تخمینہ 12,319 کروڑ روپے سے بڑھا کر 25,760 کروڑ روپے تک کر دیا ہے، جو طویل المدتی مہنگے نشریاتی معاہدوں کے شدید مالی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

میڈیا انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بھارت کی اسپورٹس براڈکاسٹنگ انڈسٹری کے ایک بڑے سٹرکچرل چیلنج کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں اشتہارات کی آمدنی اور سبسکرپشنز کی تعداد کرکٹ ایونٹس کے مہنگے نشریاتی حقوق کے اخراجات کا مقابلہ نہیں کر پا رہیں۔ اسی وجہ سے جیو اسٹار جیسے مضبوط براڈکاسٹر بھی اب طویل مدتی اسپورٹس ڈیلز میں محتاط رویہ اپنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بھارتی فوج کے حق میں بیان دینے پر آئی سی سی چیئرمین جے شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

جیو اسٹار کی اچانک دستبرداری نہ صرف آئندہ آئی سی سی ایونٹس کی نشریات کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ آخر یہ مہنگے نشریاتی معاہدے براڈکاسٹرز کے لیے کب تک قابلِ برداشت رہیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کا اثر مستقبل میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے نشریاتی معاہدوں کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp