اداکار فہد مصطفیٰ نے پنجاب حکومت سے سنیما گھروں کے اوقاتِ کار میں نرمی کی اپیل کی ہے تاکہ عوام کو فلمیں دیکھنے کے لیے مناسب وقت مل سکے۔
فہد مصطفیٰ نے اس حوالے سے وزیر برائے اطلاعات و ثقافت مریم اورنگزیب کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت شاپنگ مالز اور ان کے اندر قائم سینما گھروں کو شام 8 بجے بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جس کے باعث سنیما انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ چونکہ زیادہ تر شائقین دن کے اوقات میں مصروف ہوتے ہیں اس لیے وہ صرف شام اور رات کے اوقات میں ہی فلمیں دیکھنے کے لیے آ سکتے ہیں۔
اداکار کے مطابق سینما گھروں کے اوقات محدود ہونے سے حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلموں کی باکس آفس کارکردگی متاثر ہو رہی ہے جو اس اہم عرصے میں ناظرین تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’آپ بھی زومبی بن سکتے ہیں‘، رمضان چھیپا ایک نئے انداز کیساتھ میدان میں آگئے
فہد مصطفیٰ نے کہا کہ اگر سنیما گھروں کے اوقات میں معمولی توسیع کر دی جائے تو اس سے نہ صرف ٹکٹوں کی فروخت میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے مواقع بھی بہتر ہوں گے اور تفریحی شعبے کو بھی سہارا ملے گا۔
انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے فلم انڈسٹری کے لیے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ لاہور میں فلم سٹی کے قیام جیسے منصوبے قابلِ تحسین ہیں۔ تاہم انہوں نے درخواست کی کہ حکومت ایک ’معمولی نرمی‘ کے تحت سنیما اوقات میں توسیع پر غور کرے جو فلم سازوں، نمائش کنندگان اور شائقین تینوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
واضح رہے کہ فہد مصطفیٰ کی فلم زومبیڈ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ریلیز ہوئی تھی اور ملک بھر کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔














