سندھ کے سب سے قدیم زندہ لوک سازوں میں شمار کیے جانیوالے بَرِیندو کو باضابطہ طور پریونیسکو کے ثقافتی ورثہ کی اُس فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جسے فوری تحفظ کی ضرورت ہے۔
یہ فیصلہ ’غیر ملموس ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق بین الحکومتی کمیٹی‘ کے 20ویں اجلاس میں منظور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پرکشش طرزِ تعمیر اور تاریخی اہمیت کی حامل پاکستان کی 5 منفرد مساجد
بَرِیندو مٹی سے بنی ہوا میں بجنے والی ایک بانسری نما ساز ہے، جس کی جڑیں 5 ہزار سال قدیم وادیٔ سندھ کی تہذیب تک جا پہنچتی ہیں، یہ سندھ کی روحانی اور کمیونٹی روایات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
Bareendo (Bhorindo), one of the oldest surviving folk instruments of Sindh, has been officially inscribed on UNESCO’s list of Intangible Cultural Heritage (ICH) in need of urgent safeguarding. The decision was adopted at the 20th Session of the Intergovernmental Committee for the… pic.twitter.com/aMpETL64wq
— Pakistan Embassy France (@PakinFrance) December 9, 2025
صدیوں سے اس کی مدھم اور مراقبہ بخش دُھنیں سردیوں کی بیٹھکوں، صوفیانہ محافل اور دیہی تقریبات کا حصہ رہی ہیں۔
تاہم آج یہ روایت شدید خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ اس کے مکمل علم کے حامل صرف استاد فقیر ذوالفقار اور استاد کمہار اللہ جریو باقی رہ گئے ہیں۔
بَرِیندو کو فوری تحفظ کے محتاج ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کی نامزدگی حکومتِ سندھ، پاکستان کے یونیسکو مشن (فرانس) اور یونیسکو ہیڈکوارٹر کے مابین مشاورتی عمل کا نتیجہ ہے۔

یہ اقدام سندھ کے ضلع میں واقع گاؤں ’کیٹی میر محمد لونڈ‘ کی برادری کی سرکردگی میں شروع ہونے والی اُس مقامی کوشش سے متاثر تھا جس کا مقصد بَرِیندو کو ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ کرنا ہے۔
ان کوششوں کی بنیاد پر 2026 تا 2029 کا ایک جامع 4 سالہ تحفظاتی منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس میں کمیونٹی میوزک اسکول کا قیام، باقاعدہ و غیر رسمی تعلیم میں بَرِیندو ورثے کا شامل کیا جانا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ثقافتی رسائی میں وسعت شامل ہیں۔ یونیسکو کی جانب سے یہ اندراج اس پورے عمل کو مزید مضبوط کرے گا۔
مزید پڑھیں: دیامر بھاشا ڈیم ایریا کے علاقے میں بیش بہا ثقافتی ورثہ محفوظ بنانے کا آغاز
پاکستان کی مستقل مندوب برائے یونیسکو ممتاز زہرہ بلوچ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بَرِیندو کا اندراج پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔
ان کے مطابق یہ ان کمیونٹیز کو خراجِ تحسین ہے جنہوں نے نسل در نسل اس قدیم ساز اور اس کی موسیقی کو محفوظ رکھا۔
’یہ نہ صرف وادیٔ سندھ کی تہذیبی تسلسل کی علامت ہے بلکہ سندھ کے فنکارانہ اور روحانی ورثے کا جیتا جاگتا اظہار بھی ہے۔‘
مزید پڑھیں: گنیش گاؤں: ہنزہ کا ہزار سالہ قدیم، تاریخی اور ثقافتی ورثہ
ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق، یہ عالمی شناخت پاکستان کے اس عزم کی تجدید ہے کہ ہم اپنے متنوع ثقافتی روایات کے تحفظ اور فروغ کے لیے پُرعزم ہیں۔
’ہم یونیسکو کے ساتھ مل کر بَرِیندو کے علم، ہنرمندی اور موسیقیائی شناخت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں گے۔‘














