فیض حمید 9 مئی واقعات اور لانگ مارچ کے ڈائریکٹر تھے، عمران خان کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہوسکتا ہے، رانا ثنااللہ

جمعہ 12 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہبازشریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ 9 مئی میں فیض حمید پوری طرح ملوث ہیں، ان کے ساتھ ملوث سیاستدانوں کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہوسکتا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ان سمیت جن جن سیاسی رہنماؤں پر کیسز بنے تھے، خواہ وہ نواز شریف ہوں، مریم نواز ہوں، شہباز شریف ہوں، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے خلاف بھی کیسز بنے، خواجہ سعد رفیق تھے، حنیف عباسی کو سزا ہوئی تھی، اس وقت فیض حمید سیاہ و سفید کے مالک تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اگر پی ٹی آئی بات چیت کے لیے تیار ہے تو حکومت بھی تیار ہے، رانا ثنا اللہ کی بڑی پیشکش

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں فیض حمید کے بغیر پتہ نہیں ہلتا تھا، فیض حمید کی منظوری سے سب کچھ ہوتا رہا اور وہ ذاتی طور پر چیزوں میں ملوث تھے، جیسا انسان کرتا ہے تو ایک دن پھر انہی چیزوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، فیض حمید کو سزا مکافاتِ عمل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ پاکستان 2017-18 میں ٹریک پر آ چکا تھا، ملک معاشی طور پر آگے بڑھنے والا تھا، 1998 میں ایٹمی قوت بن چکا تھا، عمران خان کو ایک پراجیکٹ کے طور پر لایا گیا اور ملک کا بھٹہ بٹھایا گیا، آج ملک جس حال میں ہے یہ انہی کی وجہ سے ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ 12 اکتوبر 1999 اگر اس ملک میں نہ آتا تو آج ملک بہت بہتر پوزیشن میں ہوتا، اگر عمران خان کو نہ لایا جاتا تو آج ہم جی 20 کا حصہ بھی ہوتے اور ایک ترقی یافتہ ملک کے طور پر خوشحالی کی منزل پا چکے ہوتے، اس پراجیکٹ کو لانے میں ججز بھی شامل تھے، ثاقب نثار اور ان کے رفقا شامل ہیں اور فیض حمید کے ساتھ بھی مزید لوگ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ کے باہر احتجاج ہوا تو عمران خان کو کسی دوسری جیل منتقلی پر غور ہوگا، رانا ثنااللہ

انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ بھی فیض حمید کے ساتھ شامل تھے، نواز شریف تو اس وقت بھی کہتے رہے ہیں جب جنرل باجوہ طاقت میں تھے، نواز شریف جنرل باجوہ کا نام لے کر کہتے رہے ہیں کہ وہ ذمہ دار ہیں، اس سے پہلے ظہیرالاسلام تھے، ان سے پہلے شجاع پاشا تھے، ان سب لوگوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا تو پھر جا کے عمران پراجیکٹ لانچ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات اور آرمی چیف کی تقرری کے وقت لانگ مارچ میں فیض حمید کا بہت عمل دخل تھا، پی ٹی آئی کی ٹاپ لیڈرشپ اس حوالے سے فیض حمید کے ساتھ رابطے میں تھی، فیض حمید ہی اس لانگ مارچ کے ڈائریکٹر تھے اور 9 مئی کے واقعات میں بھی ان کا ہاتھ تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان الزامات پر فیض حمید کے خلاف کیس چلتا ہے تو ان کے ساتھ جو سیاستدان ملوث تھے ان کو بھی شریک ملزمان کے طور پر پراسیکیوٹ کیا جائے گا، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات میں جو چیزیں سامنے آئیں گی ان کے مطابق ہی کیس فائل ہوگا، شاید وہ کیس ملٹری کورٹ میں ہی جائے۔

یہ بھی پرھیں: عمران خان کے خلاف غداری کے مقدمے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ

انہوں نے کہا کہ فیض حمید سیاسی طور پر وہ ایسے حالات پیدا کرنے میں ملوث تھے جن سے ملک میں انارکی پھیلی، ملک میں بدامنی پھیلی، ملک ڈی اسٹیبلائز ہوا اور فوج میں تقسیم پیدا ہوئی۔ اور 9 مئی کے واقعات، پسِ پردہ واقعات، اور نومبر 2022 کا لانگ مارچ، اگر ان سب میں وہ ملوث ہیں تو اُن کا کیس ظاہر ہے کہ ملٹری کورٹ میں ہی جائے گا۔ تو اگر کوئی پرائیویٹ بندہ ان کے ساتھ ملوث ہے، کوئی سیاستدان یا کوئی سیاسی جماعت، تو اس کا کیس بھی اسی کورٹ میں چلے گا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر فوج کا ایک افسر انارکی پھیلانے  میں ملوث ہے اور اگر اس کے ساتھ کوئی سویلین بھی ملوث ہے، تو یہ قانون ہے۔ یہ آرمی ایکٹ میں ہے، یہ قانون ہے کہ اگر کوئی سویلین اس کے ساتھ ملوث ہے تو اس کا بھی ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا تعلق ہے، اگر ملاقاتیں صرف ملاقاتیں ہوں، میسج دینے کے لیے نہ ہوں، اور میسج ملک میں فساد اور انارکی پھیلانے کے ہوں، تو اگر وہ قانون کے مطابق ملاقات نہیں کرتے تو پھر ملاقات نہیں ہونی چاہیے۔ میں خود اس کے حق میں ہوں، اور حکومت کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی نہیں ہے، رانا ثنااللہ  

’اب یہ جو عظمیٰ خان کی ملاقات تھی، اور انہوں نے اس کے بعد جو بھی کیا، وہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کیونکہ انہیں ملاقات سے پہلے درخواست کی گئی تھی کہ وہ قانون کے مطابق ملاقات کریں، اور اس کے بعد اس طرح نہ کریں، تاکہ وہ بھی اور دوسرے بھی قانون کے مطابق ملاقات کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے کی صورتحال یہ ہے کہ اگر کے پی کے حکومت، چیف منسٹر کے پی کے، دو چیزوں میں ملوث نہ ہوں، تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی گورنر راج نہیں آئے گا۔ لیکن اگر وہ ان دو چیزوں میں ملوث ہیں تو انہیں کوئی نہیں بچا سکتا، وفاقی حکومت اور فوج کی جو پالیسی دہشتگردی سے متعلق ہے، اس میں وہ وفاقی حکومت کا ساتھ دیں، اور دوسرا، وہ افغانستان یا افغان باشندوں سے متعلق کسی ایسی صورت حال میں شامل نہ ہوں جو دہشتگردی میں ملوث ہوں۔

انہرں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جو پالیسی ہے کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے، اس میں وہ کسی بھی طرح شامل نہ ہوں۔ اگر وہ یہ نہ کریں، اگر وہ دہشتگردی میں سہولت کاری نہ کریں، اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے خلاف شامل نہ ہوں، باقی بیان دیتے رہیں، باقی کام کرتے رہیں، وہ برداشت کر لیے جائیں گے۔ لیکن اگر وہ ان چیزوں میں شامل ہوئے، تو پھر مشکل ہوگی۔

اگر وہ احتجاج کریں اور اسلام آباد آ جائیں، تو کیا یہ قبول ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ انہیں اسلام آباد آنے نہیں دیا جائے گا، انہیں اسلام آباد آنے سے روک دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟