سندھ کے تاریخی شہر شکارپور سے تعلق رکھنے والے سلیمان حیدر ایک ایسے فن کے امین ہیں جس کے اردگرد اب صرف خاموشی باقی رہ گئی ہے۔ وہ کلاسیکل موسیقی کے ساتھ سرمنڈل بجاتے ہیں۔ ایک ایسا ساز جس کی نرم، مدھم اور گہری آواز کبھی برصغیر کے درباروں اور محفلوں میں گونجتی تھی، مگر آج اسے بجانے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔
شکارپور کبھی موسیقی کا مرکز تھا، یہاں کے لوگ کلاسیکل موسیقی کو دل سے سنتے اور سراہتے تھے، لیکن اب شہر میں اس فن کا چراغ بجھتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں موسیقی کے رنگ، چینی کورس نے عربی زبان میں پہلی بار گیت پیش کیے
سلیمان حیدر کا کہنا ہے کہ ان کے شہر میں کلاسیکل موسیقی کا رجحان تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ’وہاں گانے والا بھی میں ہوں اور سننے والا بھی میں ہی ہوں‘
یہی خاموشی انہیں اندر تک چیرتی ہے، اور اسی درد نے انہیں شکارپور سے لاہور سفر پر مجبور کیا۔
لاہور، وہ شہر جو آج بھی موسیقی کی دھڑکن سمجھا جاتا ہے، جہاں سازوں کی آوازیں گلیوں، اسٹوڈیوز اور محفلوں میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔
سلیمان حیدر کہتے ہیں کہ لاہور ہمیشہ سے کلاسیکل موسیقی کا مرکز رہا ہے۔ یہاں لوگ موسیقی کو صرف سنتے نہیں بلکہ اسے محسوس بھی کرتے ہیں۔
سلیمان کا خواب بڑا اور واضح ہے کہ پاکستان کی کلاسیکل موسیقی کو ایک بار پھر وہ مقام دلانا جو کبھی اسے ملا کرتا تھا، تاکہ نئی نسل کلاسیکل میوزک کی نرمی، گہرائی اور اس کی روحانی خوبصورتی کو جان سکے۔
مزید پڑھیں: پشاور کے نوجوانوں میں آرٹ اور موسیقی کا شعور بیدار کرتا ادارہ
شکارپور سے نکل کر لاہور تک کا یہ سفر صرف ایک موسیقار کی ہجرت نہیں، بلکہ ایک مرتے ہوئے ساز کی آخری سانسوں کو بچانے کی کوشش ہے۔
ایک ایسی کوشش جو یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر شہر اپنی ثقافت کے لیے جگہ بنائیں تو فن مر نہیں سکتا، صرف نئی زمین تلاش کر لیتا ہے۔













