حکومت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مقامی دفاتر قائم کرنے کا مطالبہ آزادی اظہار کو محدود کرنے کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کے تحفظ اور آن لائن انتہا پسندی، نفرت انگیز مواد اور دہشتگردی سے منسلک اکاؤنٹس کے مؤثر سدباب کے لیے کیا جا رہا ہے۔
یہ مطالبہ وزارت داخلہ میں منعقدہ بریفنگ کے دوران کیا گیا، جہاں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی۔
مزید پڑھیں: انڈیا نے کن پاکستانیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چپکے سے بحال کردیے؟
وزارت داخلہ اور وزارت قانون کے حالیہ مؤقف کے مطابق حکومت کا مقصد سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو بہتر بنانا ہے تاکہ دہشت گردانہ اور پرتشدد مواد کے خلاف بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل جرائم سے نمٹنے کے لیے جامع قوانین موجود ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لازم ہے کہ وہ دیگر ممالک کی طرح پاکستانی قوانین کی پاسداری کریں، قانونی درخواستوں پر فوری ردعمل دیں اور صارفین کے تحفظ کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
حکام کے مطابق کارروائی کا ہدف تنقید یا اختلاف رائے نہیں بلکہ وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیں جو کالعدم تنظیموں جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے منسلک ہیں۔
ان میں سے کئی اکاؤنٹس بیرونِ ملک سے پاکستان کے خلاف تشدد اور نفرت پر مبنی مواد پھیلا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستانی قوانین پر عملدرآمد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہیں، طلال چوہدری
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ 24 جولائی 2025 کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کے قوانین پر عملدرآمد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہیں۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ پلیٹ فارمز پاکستان مخالف پرتشدد مواد کے خلاف کارروائی میں ناکام ہیں، جبکہ بچوں کے جنسی استحصال اور اسرائیل مخالف مواد کو فوری طور پر ہٹا دیا جاتا ہے۔
حکومت نے اس معاملے میں محاذ آرائی کے بجائے تعاون پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے مقامی دفاتر کے قیام سے حکومتی درخواستوں پر تیز ردعمل، شفافیت میں اضافہ اور پلیٹ فارمز کی جوابدہی ممکن ہو سکے گی۔
سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کے ساتھ دہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں، بیرسٹر عقیل ملک
اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کے ساتھ دہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق فلسطین سے متعلق مواد 24 گھنٹوں میں ہٹا دیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کی درخواستوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے خبردار کیاکہ اگر سوشل میڈیا کمپنیاں تعاون نہ کریں تو پاکستان برازیل کی طرز پر اقدامات پر غور کر سکتا ہے، جہاں عدم تعمیل پر ایکس پر جرمانہ عائد کیا گیا اور عارضی طور پر بند بھی کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر یہ معاملہ بین الاقوامی عدالت میں بھی لے جایا جا سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف عالمی سطح پر اختیار کی جانے والی سیکیورٹی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہے، جہاں مختلف ممالک ٹیکنالوجی کمپنیوں سے دہشتگردی اور نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر تعاون کے خواہاں ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ کا دورہ کرنے والے امریکی ویزا درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دیکھنے کا حکم
حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان آزادی اظہار کا حامی ہے، تاہم سوشل میڈیا کو دہشتگرد نیٹ ورکس اور نفرت پھیلانے والے عناصر کے لیے ہتھیار بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مقامی دفاتر کے قیام اور قوانین پر عمل درآمد کا مقصد شہریوں کا تحفظ، انسدادِ دہشتگردی قوانین کا نفاذ اور ڈیجیٹل تحفظ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ذمہ دار شراکت دار بنانا ہے۔














