چین کے مشرقی صوبہ جیانگسو کے ایک انجینیئر لی کو کام کے دوران طویل بیت الخلا کے وقفے لینے پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا، جس پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بواسیر کے مریض ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، اپریل اور مئی 2024 کے دوران لی نے 14 بیت الخلا کے وقفے لیے، جن میں سب سے طویل وقفہ 4 گھنٹے تک جاری رہا۔
مزید پڑھیں: بھارتی مسافر کا ’یادگار‘ ہوائی سفر، ممبئی سے بنگلورو تک وقت بیت الخلا میں گزرا
لی نے کمپنی کے خلاف عدالت میں غیر قانونی برطرفی کا مقدمہ دائر کیا اور 3 لاکھ 20 ہزار یوآن (قریباً 45,000 امریکی ڈالر) معاوضے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بواسیر کی دوائیں اور جنوری میں اسپتال میں ہونے والے علاج کے ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیے۔ تاہم عدالت نے فیصلہ دیا کہ لی کا بیت الخلا میں گزارا گیا وقت ان کی جسمانی ضرورت سے بہت زیادہ تھا اور اپیل مسترد کر دی گئی۔
مزید پڑھیں: سونے سے بنا فن یا سرمایہ داری پر طنز؟ دنیا کا مہنگا ترین ٹوائلٹ نیلامی کے لیے تیار
چین کے لیبر قوانین کے مطابق ملازمین کو حفظان صحت کی سہولت دی جاتی ہے، مگر اس واقعے میں عدالت نے طویل اور غیر معقول وقفوں کو کمپنی کے جائز اقدام قرار دیا۔














