بنگلہ دیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے رہنما حسنات عبداللہ نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈھاکہ بھارت مخالف قوتوں، بشمول علیحدگی پسند گروہوں، کو پناہ دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت کے شمال مشرقی خطے المعروف ’سیون سسٹرز‘ کو الگ تھلگ کیا جا سکتا ہے۔
’سیون سسٹرز ‘ میں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ شامل ہیں۔ ان میں سے آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم کی بنگلہ دیش کے ساتھ زمینی سرحد ملتی ہے، جس کے باعث یہ خطہ اسٹریٹجک طور پر نہایت حساس سمجھا جاتا ہے۔
ڈھاکہ کے سینٹرل شہید مینار میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حسنات عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش’علیحدگی پسند اور بھارت مخالف قوتوں‘ کو پناہ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی حمایت کے ذریعے بھارت کے شمال مشرقی خطے کو باقی ملک سے الگ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے شیخ حسینہ کی برطرفی نے بنگلہ دیش میں بھارت کی مداخلت ختم کردی، بنگلہ دیشی صحافی
ان کے اس بیان پر اجتماع میں موجود بعض افراد نے بھرپور تالیاں بجائیں۔
حسنات عبداللہ کا کہنا تھا، ’میں بھارت کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ایسی قوتوں کو پناہ دیتے ہیں جو بنگلہ دیش کی خودمختاری، صلاحیت، ووٹنگ کے حقوق اور انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتیں، تو بنگلہ دیش جواب دے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کے پورے خطے پر اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا، ’اگر بنگلہ دیش غیر مستحکم ہوا تو مزاحمت کی آگ سرحدوں سے باہر تک پھیل جائے گی۔‘
بھارت کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے حسنات عبداللہ نے کہا، ’آزادی کے 54 سال بعد بھی بنگلہ دیش کو ایسے ’گدھوں‘ کا سامنا ہے جو ملک پر اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ بھارت ماضی میں شمال مشرقی علاقوں میں سرگرم عسکریت پسند اور علیحدگی پسند گروہوں پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ، آمدورفت کے راستے اور لاجسٹک اڈے کے طور پر استعمال کرتے رہے، خصوصاً 1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کو پاکستان اور بھارت سے کیسا تعلق رکھنا چاہیے؟ کارکنوں نے اپنی جماعتوں کو بے نقاب کردیا
بھارتی سکیورٹی اداروں کے مطابق نیشنل لبریشن فرنٹ آف تریپورہ (این ایل ایف ٹی) اور آل تریپورہ ٹائیگر فورس (اے ٹی ٹی ایف) جیسے گروہوں کے کیمپس اور معاون نیٹ ورکس سرحد پار موجود تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان گروہوں کے کارندے بھارتی سکیورٹی فورسز سے بچنے کے لیے بنگلہ دیش میں داخل ہو جاتے تھے، جبکہ تربیت اور اسلحے کی فراہمی بھی سرحد پار سے ممکن بنائی جاتی تھی۔
شمال مشرقی بھارت کے علاوہ، ماضی میں بنگلہ دیش پر بھارت سے مبینہ روابط رکھنے والے بعض اسلام پسند شدت پسند نیٹ ورکس کی میزبانی کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
حسنات عبداللہ کے اس بیان کے بعد بھارت نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ نئی دہلی میں متعین بنگلہ دیشی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج کیا ہے۔














