ایک تازہ تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، تشدد اور گمراہ کن بیانیے پھیلانے کے لیے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا منظم اور خطرناک استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2025 کے درمیان 297 ہندوتوا نواز سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ 1,326 نفرت انگیز تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں، جن کا ہدف براہِ راست بھارتی مسلمان تھے۔
یہ بھی پڑھیے: قومی کمیشن برائے اقلیت حقوق بل میں کیا ہے اور اپوزیشن نے اس بل پر احتجاج کیوں کیا؟
رپورٹ کے مطابق یہ مواد زیادہ تر ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور فیس بک پر پھیلایا گیا، جسے مجموعی طور پر 2 کروڑ 73 لاکھ سے زائد انگیجمنٹس حاصل ہوئیں۔ سب سے زیادہ مؤثر پلیٹ فارم انسٹاگرام ثابت ہوا، جہاں کم پوسٹس کے باوجود سب سے زیادہ ردِعمل دیکھا گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ AI سے تیار کردہ یہ مواد 4 خطرناک رجحانات پر مشتمل تھا جن میں مسلمان خواتین کو جنسی انداز میں پیش کرنا، مسلمانوں کو غیر انسانی اور قابلِ نفرت دکھانا، ’لو جہاد‘، ’پاپولیشن جہاد‘ اور ’ریل جہاد‘ جیسے سازشی نظریات اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کو خوبصورت اور قابلِ قبول انداز میں پیش کرنا شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیے: میانمار فضائیہ کے اقلیتی باشندوں پر حملے، 2 اسکول تباہ، 19 طلبہ ہلاک
رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کو سانپ، دہشت گرد، مجرم اور قومی دشمن کے طور پر دکھایا گیا، جبکہ تشدد کو بعض اوقات کارٹون اور گبلی اسٹائل میں پیش کر کے نوجوانوں میں عام کیا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ہندوتوا نواز میڈیا ادارے جیسے اوپ انڈیا، سدھرشن نیوز اور پنچجنیہ اس مصنوعی ذہانت نفرت انگیزی کو مزید پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔ حیران کن طور پر نفرت انگیز مواد کی رپورٹنگ کے باوجود سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے انتہائی کم کارروائی کی۔
یہ بھی پڑھیے: پوپ لیو کی یورپ میں پھیلتے اسلاموفوبیا پر کڑی تنقید، لبنان میں امن کی اپیل
رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں AI ٹیکنالوجی کی سستی اور وسیع دستیابی مستقبل میں اقلیتوں کے خلاف تشدد، نفسیاتی نقصان اور سماجی انتشار کو مزید بڑھا سکتی ہے، جو بھارتی آئینی سیکولرازم اور جمہوری اقدار کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
رپورٹ میں حکومت، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ڈویلپرز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نفرت انگیز مواد کے خلاف سخت قوانین، شفافیت، نگرانی اور فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر بھارتی ڈیجیٹل ماحول مزید نفرت اور انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔












