پاکستان میں اگلے چند گھنٹوں کے دوران ایک فعال اور طاقتور مغربی ہواؤں کا سلسلہ (Western Disturbance) شمالی علاقوں میں داخل ہوگا۔ یہ سسٹم اتوار، 21 دسمبر 2025 تک پوری شدت کے ساتھ اثر انداز رہے گا، جس کے نتیجے میں بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور میدانی علاقوں میں بارش متوقع ہے۔
گلگت بلتستان اور بالائی خیبر پختونخوا:
چترال، دیر، سوات، کوہستان اور شانگلہ میں درمیانی سے شدید، اور کچھ مقامات پر انتہائی شدید برفباری کی توقع ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران 50 ملی میٹر یا اس سے زائد برف کے مساوی بارش متوقع ہے۔
گلگت، ہنزہ، استور، اسکردو اور غذر میں شدید برفباری ہوگی، اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی نیچے گر جائے گا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت میں شدید بارشیں، طوفان اور برفباری
آزاد جموں و کشمیر اور ملحقہ پہاڑی علاقے:
مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ اور وادی نیلم میں وادیوں میں موسلا دھار بارش اور پہاڑوں پر بھاری برفباری متوقع ہے۔ 40 سے 60 ملی میٹر تک بارش اور شدید برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ سرینگر اور کارگل کے ملحقہ علاقوں میں بھی شدید موسم کی صورتحال متوقع ہے۔
وسطی اور زیریں خیبر پختونخوا:
ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور: پہاڑوں پر برفباری اور شہری علاقوں میں اچھی بارش متوقع ہے۔ پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور کوہاٹ: میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے درمیانی درجے کی بارش ہوگی، جس سے دھند اور اسموگ میں کمی واقع ہوگی۔
متوقع اثرات اور ہدایات:
سڑکوں کی بندش: شدید برفباری کے باعث قراقرم ہائی وے (KKH)، گلگت-اسکردو روڈ اور لواری ٹنل کے اطراف کی سڑکیں بند ہونے کا خدشہ۔
لینڈ سلائیڈنگ: کشمیر اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ۔
مزید پڑھیں: چند علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر ہلکی برفباری، بیشتر علاقوں میں سردی اور دھند رہے گی
برفانی تودے: گلگت بلتستان اور بالائی چترال کے بلند مقامات پر برفانی تودوں کے گرنے کا امکان۔
درجہ حرارت: سسٹم کے گزرنے کے بعد سردی میں غیر معمولی اضافہ متوقع۔
احتیاطی تدابیر:
سیاحوں کو ہدایت ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں شمالی علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان اور بالائی نیلم ویلی کے سفر سے گریز کریں۔ مقامی رہائشیوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ضروری اشیاء کا ذخیرہ کرلیں اور غیر ضروری سفر سے بچیں۔














