جاوید ہاشمی صاحب! سچ بولیے

ہفتہ 20 دسمبر 2025
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گذشتہ کالم کے جواب میں ایکس (ٹوئٹر) پر جاوید ہاشمی صاحب کا طویل جواب پڑھا۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ واقعات کو یہاں بھی درست طور پر بیان نہیں کر پائے۔ وہی غلط بیانی، وہی خلط مبحث۔ آئیے ان کے اٹھائے گئے نکات کو قدرے تفصیل سے دیکھ لیتے ہیں۔

پہلے تو ہاشمی صاحب صرف پاکستانی فوج پر قتل عام کا الزام عائد کررہے تھے، اب میرے جواب آں غزل کے بعد وہ مان تو گئے کہ مکتی باہنی نے بھی بہت مظالم کیے لیکن یہاں وہ ایک باریک ہنر کاری فرما گئے اور مکتی باہنی کے مظالم کی فکری سہولت کاری کرتے ہوئے ان کی درندگی کا ایک طرح سے جواز دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’مگر انہیں محروم کس نے رکھا؟ ان پر ظلم کس نے کیے؟ انہیں برابری کے حق سے محروم کس نے رکھا؟ کیا صرف ایک یحییٰ خان نے؟ نہیں آصف محمود صاحب، پوری فوج نے۔‘

ضروری ہے کہ بزرگ سیاست دان کے اس سارے خلط مبحث پر بات کی جائے۔

پہلا سوال ہاشمی صاحب سے یہ ہے کہ کیا مشرقی پاکستان کی کوئی محرومی مکتی باہنی کی درندگی کا جواز بن سکتی ہے؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کون سی ایسی محرومی تھی جس کا رونا پیٹنا ابھی تک ختم نہیں ہو رہا؟

محرومی والا بیانیہ بالعموم دو نکات پر استوار ہوتا ہے۔ اول یہ کہ بنگالیوں کو معاشی طور پر محروم رکھا گیا۔ اور دوم یہ کہ انہیں سیاسی طور پر محروم رکھا گیا ان کے حقوق نہیں دیے گئے اور الیکشن جیتنے کے باوجود انہیں اقتدار نہیں دیا گیا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے اور عمومی تاثر بھی یہی بنا دیا گیا ہے کہ یہ بات درست ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔

معاشی محرومی کے فسانے سے شروع کر لیتے ہیں۔

قیام پاکستان سے قبل مشرقی بنگال یعنی بنگلہ دیش کی حالت یہ تھی کہ وہاں ایک انڈسٹری تک نہیں تھی۔ معیشت کا مکمل انحصار زرعی اشیا پر تھا یا پھر مچھلی پر۔ خام مال کلکتہ جاتا اور وہاں کی انڈسٹری میں استعمال ہوتا تھا۔ انڈسٹری ساری مغربی بنگال میں تھی جو بھارت کا حصہ بن گیا تھا۔ مغربی بنگال کا کلکتہ بہت آگے تھا اور مشرقی بنگال کا ڈھاکہ بہت پیچھے تھا۔ جب پاکستان بنا تو ڈھاکہ صرف ایک ضلعی ہیڈ کوارٹر تھا اور وہاں پر محض وہ سہولیات تھیں جو ایک ضلع میں ہوتی ہیں۔

قیام پاکستان کے ساتھ ہی مشرقی بنگال کی اس محرومی کے ازالے پر کام شروع ہوگیا۔ 1949 میں چٹا گانگ میں ’چٹا گانگ ٹی آکشن‘ قائم کیا گیا تاکہ مشرقی پاکستان کے کسان کو اپنی چائے کی بہتر مارکیٹ مل سکے۔ چائے اس وقت مشرقی پاکستان کی زراعت میں نمایاں حیثیت رکھتی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 70 سال پہلے بننے والے اس ٹی آکشن کو اب بھی بنگلہ دیش کا کاروباری مرکز کہا جاتا ہے۔

اسی طرح پٹ سن کی ساری ملیں بھارت میں رہ گئیں اور مشرقی پاکستان میں ایک بھی نہ تھی لیکن قیام پاکستان کے بعد صرف پانچ سالوں میں مشرقی پاکستان نے مغربی بنگال کو پیچھے چھوڑ دیا اور پٹ سن میں دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری مشرقی پاکستان میں تھی۔

چند سال بعد 1955 میں مشرقی پاکستان میں قدرتی گیس کے ذخائر دریافت کر لیے گئے۔ 1959 میں وہاں گیس کا صنعتی استعمال شروع ہو چکا تھا۔ 1964 میں یہ صورت حال تھی کہ پاکستان پیٹرولیم نے نصف درجن سے زیادہ گیس فیلڈز سے گیس نکالنا شروع کر دی تھی۔ پاکستان نیشنل آئل کا ہیڈ آفس بھی کراچی میں نہیں بلکہ چٹا گانگ میں تھا۔

اس دوران دریائے کرنافلی پر کپتئی ڈیم پر کام شروع ہو چکا تھا، اور 1962 میں اس ڈیم نے کام کرنا شروع کردیا تھا۔

چٹا گانگ میں 1956 میں پہلی اسٹیل مل کام کرنا شروع کر چکی تھی۔ یہ پاکستان کی پہلی اسٹیل مل تھی، کراچی کی اسٹیل مل بہت بعد کی بات ہے۔ کسی نے نہیں کہا کہ یہ مل چٹا گانگ میں کیوں لگا رہے ہو کراچی میں لگاؤ۔

چٹا گانگ آئل ریفائنری 1963 میں قائم ہوئی، یہ واحد آئل ریفائنری ہے جو بنگلہ دیش کی اپنی ملکیت ہے۔

حسینہ واجد نے چند سال پہلے بنگلہ دیش اکیڈمی فار رورل ڈیولپمنٹ کا ذکر کیا تھا، ہمیں معلوم ہونا چاہیے یہ اکیڈمی 1959 میں بنی تھی، بنگلہ دیش نے صرف اس کا نام ہی بدلا ہے، اس کے روح رواں مرحوم اختر حمید خان تھے جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے نہیں تھا۔

چٹاگانگ پورٹ ٹرسٹ 1960 میں قائم ہوا اور پورٹ میں جدت لائی گئی۔شاہ جلال ایئرپورٹ سے پہلے بنگہ دیش کا واحد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تیجگان ایئرپورٹ تھا جسے 1960 میں حکومت پاکستان نے باقاعدہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی شکل دی۔

بنگلہ دیش میرین اکیڈمی فار ٹریننگ مرچنٹ شپس ایوب دور میں بنی۔

بنگلہ دیش کی موجودہ پارلیمنٹ کی عمارت کا سنگ بنیاد بھی ایوب خان کے دور میں رکھا گیا تاکہ اسلام آباد کے ساتھ ڈھاکہ کو دوسرا دارالحکومت قرار دیا جا سکے۔

مخدوم جاوید ہاشمی صاحب کو معلوم ہوگا کہ مشرقی پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ مغربی پاکستان کے تاجروں کا تھا۔ شیخ مجیب نے اپنے نکات میں تو یہ کہہ دیا کہ ایک حصے سے سرمایہ دوسرے حصے میں آزادانہ نہ جائے اور اسی کو بعد میں اقوال زریں بنا دیا گیا لیکن یہ بات کسی کو معلوم نہیں کہ مشرقی پاکستان میں سرمایہ کاری میں زیادہ حصہ مغربی پاکستان کے بینکوں سے گیا۔

یہ طعنہ تو سب کو یاد ہے کہ شیخ مجیب کو اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی تھی لیکن یہ کسی کو معلوم نہیں کہ نرائن گنج میں پٹ سن کی سب سے بڑی فیکٹری آدم جی گروپ نے لگائی جس کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔

ہاشمی صاحب اگر تھوڑا سا مطالعہ فرما لیں تو انہیں معلوم ہو کہ قیام پاکستان کے وقت جس مشرقی بنگال کا معاشی طور پر بہت برا حال تھا پاکستان بننے کے بعد 1960 میں وہاں اتنی بہتری ضرور ہو چکی تھی کہ پاکستان کی کل ایکسپورٹ کا 70 فیصد وہاں سے آ رہا تھا۔

ہاشمی صاحب توجہ تو فرمائیں کہ کہاں وہ وقت کہ سہروردی معاشی خوف سے یہ کہہ رہے تھے مشرقی بنگال مغربی بنگال سے الگ ہوا تو تباہ ہو جائے گا، کیونکہ معاشی امکانات تو سب مغربی بنگال کے شہر کلکتہ میں ہیں اور پھر کہاں یہ وقت کہ مشرقی پاکستان کی معاشی ترقی نے مجیب الرحمان کو یہ کہنے پر مجبور کر دیاکہ مشرقی پاکستان اب اپنے فارن اکاؤنٹس الگ کرنا چاہتا ہے۔

جاوید ہاشمی صاحب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ بنگالی بھائیوں کا استحصال کس نے کیا؟ ایسی سادگی سے پوچھتے ہیں جیسے مخدوم رشید سے لے کر میرے گاؤں دھریمہ تک تو پیرس اور لندن جیسا ماحول بن چکا تھا بس ایک ڈھاکہ ہی پیچھے رہ گیا تھا۔

اب آئیے اس فرضی استحصال اور محرومیوں کے جھوٹے بیانیے کے سیاسی پہلو کی جانب۔ کہا جاتا ہے بنگالی بھائیوں کا سیاسی استحصال ہوا اور وہ مجبور ہو کر الگ ہو گئے۔ پس ثابت ہوا کہ سارا قصور ہمارا تھا۔

قیام پاکستان کے وقت ملک کا سب سے طاقتور منصب گورنر جنرل ہی کا تھا۔ قائداعظم کی وفات کے بعد یہ طاقتور ترین منصب خواجہ ناظم الدین کو دیا گیا جن کا تعلق بنگال سے تھا اور جائے پیدائش ڈھاکہ تھی، بنگالی بھائیوں کے سیاسی استحصال کی یہ پہلی گواہی ہے۔

جب لیاقت علی خان شہید ہو گئے تو یہی خواجہ ناظم الدین تھے جو پاکستان کے دوسرے وزیراعظم بن گئے۔ یہ گویا بنگالی بھائیوں کا دوسرا سیاسی استحصال ہوگیا۔

پاکستان کے تیسرے وزیراعظم صاحبزادہ محمد علی بوگرہ تھے اور ان کا تعلق بھی بنگال سے تھا۔ وہ بریشل میں پیدا ہوئے تھے، یہ بنگالی بھائیوں کے سیاسی استحصال کا تیسرا ثبوت ہوگیا۔

چوتھے وزیراعظم چوہدری محمد علی تھے اور ان کا تعلق بھی مغربی پاکستان سے نہیں تھا بلکہ وہ جالندھر سے ہجرت کر کے آئے تھے۔

پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی تھے، ان کا تعلق بھی بنگال سے تھا، اب تو گویا بنگالی بھائیوں کے سیاسی استحصال کی انتہا ہی ہوگئی۔

چھٹے وزیراعظم ابراہیم اسماعیل چندریگر تھے۔ وہ بھی مغربی پاکستان کے رہنے والے نہیں تھے بلکہ بھارت کی ریاست گجرات کے شہر گودھرا سے ہجرت کرکے آئے تھے۔

ساتویں وزیراعظم فیروز خان نون کا تعلق البتہ پنجاب سے تھا، وہ خوشاب کے ایک گاؤں ہموکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ایک مختصر ترین مدت کے لیے نورالامین صاحب وزیراعظم بنے اور ان کا تعلق بھی مشرقی پاکستان سے تھا۔

گویا 1947 سے لے کر 1971 تک مغربی پاکستان کا صرف ایک وزیراعظم تھا جبکہ 4 وزیراعظم مشرقی پاکستان سے تھے۔ کیا فرماتے ہیں جاوید ہاشمی صاحب بیچ اس مسئلے کے، بنگالی بھائیوں کے ساتھ تو بہت ظلم نہیں ہوگیا؟

اب جاوید ہاشمی صاحب فرمائیں گے کہ مشرقی پاکستان کے ان وزرائے اعظم کو کام نہیں کرنے دیا گیا اور مختصر مدت کے بعد انہیں ہٹایا جاتا رہا تو ظلم تو ہوگیا۔

یہ بات درست سہی مگر لیکن اس کی وجوہات کچھ اور تھیں اور مشرقی پاکستان سے نفرت ہر گز اس کی وجہ نہ تھی۔ فیروز خان نون تو پنجاب کے وزیراعظم تھے لیکن ان کی مدت اقتدار بھی صرف 9 ماہ اور 21 دن تھی۔ یہ سلسلہ تو سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھی چلتا رہا۔ سندھ کے وزرائے اعظم اور پنجاب کا وزیراعظم بھی شکوہ کناں رہا۔ اس صورت حال کا سیاست کی دنیا میں گڈ گورننس کے ذریعے ہی مقابلہ کیا جاسکتا تھا۔ اس سیاسی عدم استحکام کو کسی طور بھی بنگال دشمنی کا نام نہیں دیا جا سکتا، نہ ہی یہ ملک توڑنے کی کوئی دلیل یا جواز بن سکتا ہے۔

جاوید ہاشمی صاحب فوج کے سیاسی کردار کے بڑے ناقد ہیں لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ پاکستان میں فوج کو اقتدار کی راہ دکھانے کا اعزاز بھی محمد علی بوگرہ نامی ایک وزیراعظم کو حاصل ہے جس کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔

محمد علی بوگرہ صاحب نے جب اپنی کابینہ بنائی تو فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کو وزیر دفاع اور میجر جنرل سکندر مرزا کو وزیر داخلہ بنا دیا۔ یہ مشرقی پاکستان کے بوگرہ صاحب ہی تھے جنہوں نے حاضر سروس جرنیل کو اقتدار میں شامل کیا۔

پھر بوگرہ صاحب تو 1955 میں رخصت ہو گئے لیکن ایوب خان صاحب 1955 میں اپنی ملازمت میں 4 سال کی توسیع لے چکے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ مشرقی پاکستان کے کسی بھی سیاست دان کی حب الوطنی پر سب سے پہلا سوال بھی مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے ہی اٹھایا تھا جب انہوں نے فضل حق پر غداری کے الزام عائد کرکے انہیں مشرقی پاکستان کی وزارت اعلیٰ سے فارغ کیا۔

جب ایوب خان نے مارشل لا لگایا تو بنگال کے ہی جسٹس ابراہیم صاحب ایوب خان کی کابینہ میں وزیر قانون بن بیٹھے۔ 1958 میں مارشل لا لگا اور 1958 سے 1962 تک جسٹس صاحب ایوب حکومت کے وزیر قانون کے منصب پر فائز رہے۔ جسٹس منیر تو سب کو یاد ہیں، جسٹس ابراہیم کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔

ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جب مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعت الیکشن جیت گئی تو شیخ مجیب کو اقتدار دینے سے انکار کر دیا گیا اور ملک ٹوٹ گیا، یہ بات بھی درست نہیں۔

سب سے پہلے تو یہ بات اچھی طرح جان لی جانی چاہیے کہ کسی نے شیخ مجیب کو اقتدار دینے سے انکار نہیں کیا تھا۔ ہاں اس میں تاخیر ضرور ہوئی اور انتقال اقتدار کے عمل کو التوا میں ڈالا گیا۔ اس التوا کے بارے میں دو آرا ہو سکتی ہیں کہ یہ درست تھا یا ایک بھیانک غلطی۔ لیکن یہ بات بہر حال واضح ہے کہ اس تاخیر کی بہت ٹھوس وجوہات تھیں۔

انتقال اقتدار سے کسی کو انکار نہ تھا، بس اتنا تھا کہ کچھ چیزیں طے کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجوہات تھیں۔ آپ اختلاف یا اتفاق کر سکتے ہیں مگر وجوہات موجود تھیں۔

یہ محض انتقال اقتدار نہیں تھا، صورت حال کہیں زیادہ پیچیدہ تھی۔ یہ ملکی تاریخ کے پہلے عام انتخابات تھے اور ان کے نتیجے میں جو پارلیمان وجود میں آنا تھی اس نے ملک کا آئین بھی تیار کرنا تھا۔

شیخ مجیب الرحمان کے 6 نکات مسئلہ بن چکے تھے، یہ اس کے انتخابی منشور کا حصہ بھی تھے۔ اگر شیخ مجیب نیا آئین بناتے وقت ان نکات پر عمل پیرا ہو جاتا تو مشرقی پاکستان تو رہا ایک طرف مغربی پاکستان کو بچانا بھی مشکل ہو جاتا۔

غلطی یہ ہوئی کہ شیخ مجیب کو ان نکات پر انتخابات میں حصہ لینے دیا گیا۔ غلطی یہ ہوئی کہ اس کے ساتھ نرمی برتی گئی۔ غلطی یہ ہوئی کہ اسے اگر تلہ سازش کیس میں معاف کر دیا گیا۔ غلطی یہ ہوئی کہ اسے سزا دینے کی بجائے گول میز کانفرنس میں بلا لیا گیا۔ یہ غلطیاں اب پہاڑ بن چکی تھیں۔

چنانچہ فطری طور پر شدید تحفظات پیدا ہوئے اور شیخ مجیب کو اقتدار سونپنے سے پہلے ان سے کچھ معاملات طے کرنا ضروری سمجھا گیا تاکہ توازن رہے۔

یہ مسئلہ حل ہوجانا تھا مگر عوامی لیگ نے مکتی باہنی کی دہشتگردی سے ملک میں آگ لگا دی، کیونکہ اس کے بھارت سے معاملات پہلے سے طے تھے، انتقال اقتدار کی تاخیر بہانہ بن گئی۔

آئن ٹالبوٹ نے اپنی کتاب ’پاکستان: اے ماڈرن ہسٹری‘ میں لکھا ہے کہ شیخ مجیب 1962 سے بھارت کے ساتھ خفیہ رابطوں میں تھا اور 1965 کے دوران میں بھارت اور مجیب کے یہ رابطے قائم رہے اور عوامی لیگ کے رہنما بھارتی اہلکاروں کے ساتھ خفیہ مقامات پر ملاقاتیں کرتے رہے، یہ نکات انہی میٹنگز کا شاخسانہ تھے۔

اب تو بات مزید واضح ہو چکی ہے کہ اگر تلہ سازش کیس ایک حقیقت تھی۔ اگر تلہ ساز کیس کا ایک کردار شوکت علی تھا جو بعد میں بنگلہ دیش کا ڈپٹی اسپیکر بنا۔ شوکت علی نے 2011 میں ڈھاکہ میں اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہاکہ اگر تلہ کیس ایک حقیقت تھی اور ہم پاکستان توڑنے کے لیے 60 کی دہائی سے بھارت سے رابطے میں تھے۔ پھر پوائنٹ آف آرڈر پر عوامی لیگ کے سینیئر رہنما طفیل احمد نے شوکت علی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ تحسین کے مستحق ہیں۔

جاوید ہاشمی صاحب مگر اب بھی نہیں مانیں گے کہ اگر تلہ سازش کیس ایک حقیقت تھی۔

ہاشمی صاحب حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا حوالہ ایسے دیتے ہیں جیسے یہ بڑی معتبر دستاویز ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کمیشن کا مینڈیٹ ہی محدود تھا۔ یہ کمیشن اس سارے سانحے کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے قائم نہیں کیا گیا تھا۔ اسے بنیادی طور پر صرف یہ تلاش کرنا تھا کہ وہ کیا حالات تھے کہ ایسٹرن کمانڈ نے ہتھیار ڈالے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیشن صرف سرنڈر سے جڑے حالات و واقعات تک محدود تھا، سانحے کا مکمل جائزہ کیوں نہ لیا گیا؟

اس حادثے کے کم از کم 3 فریق تھے۔ جرنیل، بھٹو اور شیخ مجیب۔ اس کمیشن نے ایک فریق پر تو خوب طبع آزمائی کی، دوسرے دو کرداروں کے بارے سکوت کیوں؟ یہ انصاف تھا یا آسان ہدف پر چاند ماری تھی؟

پاکستان کی ایسٹرن کمانڈ بھارت کی قید میں تھی اور اس کمیشن نے اس کی واپسی کا انتظار کیے بغیر اس کی عدم موجودگی میں، اس کا مؤقف سنے بغیر سماعت بھی مکمل فرما لی اور رپورٹ بھی جاری کر دی۔

کیا یہ انصاف تھا یا کسی کی سیاسی ضرورت تھی اور اس ضرورت کو کندھا فراہم کیا گیا تھا؟

کمیشن نے یحییٰ خان پر بہت تنقید کی لیکن یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ جب یحییٰ کو غیر آئینی طریقے سے اقتدار سونپا گیا تو ملک کے چیف جسٹس یہی حمود الرحمان خود تھے جو خاموش رہے۔

حمود الرحمان کمیشن نے حسب روایت جمہوریت اور آئین کے درس تو دیے لیکن کمیشن نے یہ بھی نہیں بتایا کہ بعد میں جب یحییٰ خان نے آئین پامال کر کے ایل ایف او جاری کیا تو یہی حمود الرحمان چیف جسٹس تھے، لیکن استعفیٰ دے سکے نہ یحییٰ کے خلاف فیصلہ سنا سکے۔

حتیٰ کہ یحییٰ خان نے جب آئین کی تشریح کا اختیار بھی عدلیہ سے چھین کر خود کو دے دیا تو چیف جسٹس حمود الرحمان اس پر بھی بد مزہ نہ ہوئے۔

اب آئیے آخری بات کی طرف۔ مخدوم جاوید ہاشمی اپنی خود ساختہ اور بے بنیاد تعبیر پیش کر کے فرماتے ہیں: ’انہیں محروم کس نے رکھا؟ ان پر ظلم کس نے کیے؟ انہیں برابری کے حق سے محروم کس نے رکھا؟ کیا صرف ایک یحییٰ خان نے؟ نہیں آصف محمود صاحب، پوری فوج نے۔‘

سوال یہ ہے کہ اگر ہاشمی صاحب کے خیال میں یہ سب ایسے ہی ہوا تھا اور اس کی ذمہ دار پوری فوج تھی تو اسی سانحہ مشرقی پاکستان کے چند سال بعد وہ ایک فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق کی کابینہ میں وزیر مملکت کیوں بن بیٹھے؟ کیا تب سانحہ مشرقی پاکستان بھول گیا؟ یا اصل تکلیف کچھ اور ہوتی ہے بیان کچھ اور ہوتا ہے؟

فیڈریشن کے اندر مسائل ہوتے ہیں سیاسی بھی اور معاشی بھی۔ وہ مگر حل بھی ہو جاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے زبان کا مسئلہ تھا۔ مشرقی پاکستان نے احتجاج کیا اور ایک وقت آیا کہ بنگالی کو بھی قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ آج زبان کے مسئلے پر طعنے تو دیے جاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ مسئلہ حل ہو گیا تھا اور بنگالی بھائیوں کا مطالبہ مان لیا گیا تھا۔ ارتقا اسی کا نام ہے۔ سیاست میں مسئلے اسی طرح دھیرے دھیرے حل ہوتے ہیں۔

ایک فاشسٹ کلٹ نے جو بھارت کے ساتھ معاملہ کر چکا تھا اس سب کا ایکسپلائٹ کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہ کلٹ آج ڈھاکہ میں بھی رسوا ہوا پڑا ہے۔

ہاشمی صاحب قابل احترام سیاست دان ہیں۔ اس لیے ان سے درخواست ہے ذاتی غم و غصے کی بنیاد پر حقائق کا ابطال نہ کریں۔ سچ بولیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟