قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے خلاف پی آئی اے پیپلز یونٹی کے کارکنان نے لاہور میں شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین پی آئی اے ٹاؤن آفس کے باہر بینرز اور پلے کارڈز کے ساتھ سڑک پر نکل آئے اور نجکاری کے خلاف نعرے بازی کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز یونٹی کے صدر رانا کاشف نے کہا کہ اگر نجکاری ہوئی تو ہم خودکشی کر لیں گے اور اس پرائیوٹائزیشن کو ہر صورت روکیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا پی آئی اے کی نجکاری 23 دسمبر کو ہو جائے گی؟
ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ایک ریاستی ادارہ ہے اور اس کی نجکاری آئین و قانون کے منافی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ نجکاری کے لیے نہ تو پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی اور نہ ہی کونسل آف کامن انٹرسٹ سے، اس لیے حکومت فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لے۔
رانا کاشف نے دعویٰ کیا کہ پی آئی اے گزشتہ ڈیڑھ برس سے اربوں روپے منافع کما رہی ہے جبکہ یورپ سمیت متعدد بین الاقوامی روٹس بھی بحال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے اثاثوں کی مالیت 1200 ارب روپے سے زائد ہے مگر اسے محض 100 ارب روپے میں فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پی آئی اے کی نجکاری کے آخری مراحل میں، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کا بوجھ کون اٹھائے گا؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر نجکاری کرنی ہی ہے تو ملازمین کو ترجیح دی جائے۔ ‘جو کمپنی جتنی بولی دے گی، ہم اس سے زیادہ دینے کو تیار ہیں۔ ہمیں جہاز فراہم کیے جائیں اور خراب طیاروں کی مرمت کی اجازت دی جائے، مگر دانستہ طور پر ہمیں مرمت سے روکا جا رہا ہے تاکہ ادارہ اونے پونے داموں فروخت ہو سکے۔’
صدر پیپلز یونٹی نے مزید کہا کہ پی آئی اے کے تمام قرضے ادا کیے جا چکے ہیں اور اس کے فضائی روٹس کی مالیت بھی اربوں ڈالر بنتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا تو ملازمین فضائی آپریشن معطل کرنے پر مجبور ہوں گے۔














