عمران خان کی زائد العمری اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے پر سزا میں نرمی برتی گئی

ہفتہ 20 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس 2 کا تحریری فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔ اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے عدالت میں فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزمان کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور 1 کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے فی کس جرمانہ عائد کیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ہر ایک پر مزید 6 ماہ قید ہوگی۔

مزید پڑھیں: توشہ خانہ کیس ٹو: سنگین نوعیت کے مقدمے میں یہ ایک بڑا فیصلہ ہے، مصطفیٰ کمال

عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ نے اپنا مقدمہ ثابت کیا اور دونوں ملزمان خیانت مجرمانہ کے مرتکب پائے گئے۔ فیصلے کے مطابق، عمران خان کو دفعہ 409 PPC کے تحت 10 سال قید اور انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے تحت 7 سال قید دی گئی۔ بشریٰ بی بی کو بھی مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

مزید پڑھیں: توشہ خانہ کیس 2: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17- 17 سال قید اور جرمانے کی سزا

عدالت نے عمران خان کی زائد عمر اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا میں نرمی اختیار کی، اور ملزمان کے حوالات میں گزارے گئے عرصہ کو بھی سزا میں شامل کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مودی مخالف ویڈیوز پر میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج

فیفا بحران تیز: ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر اعلیٰ مشیر مستعفی

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

ویڈیو

پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘