نئی دہلی میں بنگلہ دیشی ہائی کمیشن کے سامنے ہفتے کی رات پیش آنے والے سیکیورٹی واقعے نے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک سخت گیر گروپ نے سفارتخانے کے مرکزی گیٹ تک پہنچ کر احتجاج کیا اور بنگلہ دیشی ہائی کمیشنر کو دھمکیاں دیں۔
یہ بھی پڑھیں:سرحدی قتل اور نوجوانوں کی بڑھتی ناراضگی، بھارت کے لیے بنگلہ دیش میں خطرے کی گھنٹی
ذرائع کے مطابق، بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کی عمارت کے مرکزی گیٹ تک سخت گیر سرگرم کارکنان پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جو مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 9 بجے سیکیورٹی کا چوکیداری نظام پار کر گئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ گروپ نے گیٹ پر مختصر احتجاج کیا اور بنگلہ دیش مخالف نعرے لگائے۔ اس دوران بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر برائے بھارت، ریاض حمید اللہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں۔
এবার দিল্লিতে বাংলাদেশের হাইকমিশনারকে ‘হ/ত্যার’ হু/মকিhttps://t.co/9xnIecJI6S
— The Daily Jugantor (@DailyJugantor) December 21, 2025
ذرائع کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو مقامی سیکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے فوری مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جس سے غیر ملکی سفارتی مشنز کی حفاظت پر سوالات اٹھ گئے۔ بین الاقوامی سفارتی اصولوں کے مطابق میزبان ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ سفارت خانوں اور تعینات نمائندوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: طلبا تحریک کے شہید رہنما عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت
رپورٹ درج ہونے تک یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ بنگلہ دیشی عبوری حکام نے نئی دہلی میں واقعہ پر رسمی احتجاج درج کرایا ہے یا نہیں، تاہم یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے حساس تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کرنے والا ہے۔
ڈھاکہ میں سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی عمارات کی حفاظت بین الاقوامی معاہدوں کے تحت مشترکہ ذمہ داری ہے، اور کسی بھی قسم کی ناکامی پڑوسی ممالک کے درمیان اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔
نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کی اطلاعات پر بھارت کا ردعمل
بھارت نے نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے باہر احتجاج سے متعلق میڈیا رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، وہاں سیکیورٹی صورتحال پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی عمارت کی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی۔
بھارت کی جانب سے میڈیا کے سوالات کے جواب میں جاری بیان میں کہا گیا کہ بنگلہ دیشی میڈیا کے کچھ حصوں میں واقعے سے متعلق بعض رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق 20 دسمبر کو نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کے باہر تقریباً 20 سے 25 نوجوان جمع ہوئے جنہوں نے میانم سنگھ میں دیپو چندر داس کے قتل کے خلاف نعرے لگائے اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
بیان کے مطابق احتجاج کے دوران نہ کسی نے باڑ توڑنے کی کوشش کی، نہ ہی سکیورٹی صورتحال پیدا ہوئی۔ موقع پر موجود پولیس نے چند منٹ بعد ہجوم کو منتشر کر دیا۔ بھارتی حکام نے کہا کہ واقعے کی ویڈیوز اور دیگر شواہد عوامی سطح پر موجود ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سکیورٹی میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوا۔
بھارت نے کہا کہ وہ ویانا کنونشن کے مطابق اپنی سرزمین پر موجود غیر ملکی سفارتی مشنز اور ان کے اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنانے کا پابند ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق بھارت بنگلہ دیش کی بدلتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک کے حکام رابطے میں ہیں۔ بھارت نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ دیپو چندر داس کے قتل کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔














