علم کی روشنی کبھی ریٹائر نہیں ہوتی۔ پینشن کی معقول رقم اور آرام دہ زندگی کی تمام سہولیات دستیاب ہونے کے باوجود 63 سالہ استاد مبشر الٰہی ہر روز مقررہ وقت سے پہلے ہی اسکول کے مرکزی دروازے پر موجود ہوتے ہیں۔
استاد مبشر الٰہی 2 برس قبل سرکاری ملازمت سے باضابطہ طور پر ریٹائر ہو چکے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ میں اب ان کا نام اسکول کے عملے کی فہرست میں شامل نہیں، مگر علم کے ساتھ ان کا تعلق کسی تنخواہ یا عہدے کا محتاج نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: استاد کیسے شاگرد کی زندگی بدلتے ہیں؟ اہم سوال کا جواب دینے والی 4 متاثر کن بالی وڈ فلمیں
ریٹائرمنٹ کے بعد گھر پر فارغ بیٹھنا انہیں کسی سزا سے کم محسوس نہ ہوا۔ ان کے ذہن میں بار بار وہی جملہ گونجتا رہتا تھا جو وہ برسوں سے دہراتے آئے تھے:
’ایک استاد کا کام محض نصاب پڑھانا نہیں، بلکہ مستقبل کی تعمیر کرنا ہوتا ہے۔‘
ریٹائرمنٹ کے اگلے ہی دن کسی کو اطلاع دیے بغیر وہ خاموشی سے اسکول پہنچ گئے۔ ہیڈ ماسٹر نے انہیں دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا، مگر استاد مبشر الٰہی نے نہایت سادگی سے کہا:
’میں تدریسی ملازمت سے ریٹائر ہوا ہوں، پڑھانے سے نہیں۔ میں روز یہاں آؤں گا اور ان بچوں کو ریاضی، اردو اور دیگر مضامین اسی طرح پڑھاؤں گا۔ یہ میری طرف سے بلا معاوضہ خدمت ہوگی۔‘
اب ہر صبح اسکول میں استاد مبشر الٰہی کی بلا اجرت کلاس منعقد ہوتی ہے، جہاں بچے پہلے جیسی ہی توجہ، عقیدت اور محبت سے ان کی باتیں سنتے ہیں۔
وہ صرف ریاضی کے فارمولے نہیں سمجھاتے بلکہ زندگی کا حساب بھی سکھاتے ہیں۔ وہ انگریزی کے الفاظ کے ساتھ ساتھ سچائی، دیانت اور اخلاقیات کی لغت بھی بچوں کے سامنے کھولتے ہیں۔
بچے محبت سے استاد مبشر الٰہی کو ’استاد بابا‘ کہتے ہیں۔ شہر بھر میں یہ بات مشہور ہو چکی ہے کہ ’استاد بابا کی کلاس‘ میں پڑھنے والے بچوں کے تعلیمی نتائج نمایاں طور پر بہتر ہو رہے ہیں۔ ان کے اس عمل نے نہ صرف بچوں کے لیے علم کی ایک نئی راہ ہموار کی ہے بلکہ کوہاٹ کے کئی دیگر ریٹائرڈ اساتذہ کو بھی رضاکارانہ طور پر اسکول آ کر قوم کے مستقبل کو سنوارنے کی ترغیب دی ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا: استاد کے مبینہ تشدد سے شاگرد دم توڑ گیا، ملزم گرفتار
استاد مبشر الٰہی اس حقیقت کا عملی ثبوت ہیں کہ ایک سچے معلم کا جذبہ نہ وقت کا پابند ہوتا ہے، نہ عمر کا، اور نہ ہی مالی مفاد کا۔ ان کے نزدیک علم کی شمع کبھی بجھتی نہیں، بلکہ یہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ مزید جانیے باسط گیلانی کی اس رپورٹ میں۔













