شہرِ قائد کے قدیم علاقے گارڈن میں واقع تھانہ گارڈن صرف امن و امان کے مرکز نہیں بلکہ برصغیر کی پولیسنگ تاریخ کا ایک زندہ و جاوید باب ہے۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق گارڈن پولیس اسٹیشن کی موجودہ عمارت 1926 میں تعمیر کی گئی تھی۔ برطانوی دور کی یہ عمارت اپنے کلونیل طرزِ تعمیر کی وجہ سے الگ پہچان رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں دھند: 5 بین الاقوامی پروازیں دیگر ائیرپورٹس منتقل
تھانہ گارڈن کی عمارت پتھروں سے بنی ہے اور اس کا ڈیزائن 20ویں صدی کے اوائل کے برطانوی فنِ تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے، اس تھانے کا نام قریبی واقع گاندھی گارڈن یا کراچی چڑیا گھر کی مناسبت سے رکھا گیا تھا، جو انگریز دور میں تفریح کا مرکز تھا۔
تھانے کی عمارت اس کے اندر زینہ، دروازے، لاک اپ یا مال خانہ تمام مقامات پرانے دور کی یاد دلاتے ہیں، کراچی میں اس طرح کی کئی عمارتیں موجود ہیں جو خاص پتھروں سے بنائی گئی ہیں اور وقت کی سختیاں جھیلنے کے باوجود اب بھی یہ ایسی کھڑی ہیں جیسے ان میں اب بھی کئی صدیاں گزارنے کی ہمت باقی ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی میں دھند: 5 بین الاقوامی پروازیں دیگر ائیرپورٹس منتقل
سندھ پولیس برصغیر (موجودہ پاکستان) کی پہلی جدید پولیس فورس مانی جاتی ہے جسے 1843ء میں قائم کیا گیا تھا۔ گارڈن کا علاقہ اور یہاں قائم پولیس لائنز اس فورس کے ابتدائی مراکز میں سے ایک تھے۔ جب 1847ء میں سندھ کی کیپیٹل پولیس بنائی گئی تو اس کا ایک اہم مرکز یہی علاقہ تھا۔













