بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے کہا ہے کہ کہ آنے والے قومی انتخابات سے قبل ہر صورت ملک میں معمول کا امن و امان برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔
وی نیوز کے نمائندے کے مطابق، بنگلہ دیش میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے اتوار کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کی۔ اجلاس ریاستی مہمان خانہ جمنا میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں مشیرِ داخلہ ایم ڈی جہانگیر عالم چودھری، قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر خلیل الرحمان، اور مختلف سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے بھارت ’گریٹر بنگلہ دیش‘ سے کیوں خائف ہے؟
اجلاس کے اہم نکات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان کی وطن واپسی کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات، اور کرسمس و نئے سال کی تقریبات کے دوران عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات شامل تھے۔
اس موقع پر انقلاب منچا کے ترجمان اور جولائی تحریک کے کارکن شریف عثمان ہادی کے قتل کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے اب تک کی گئی گرفتاریوں اور قتل میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے جاری کوششوں سے اجلاس کو آگاہ کیا۔
پولیس حکام نے چیف ایڈوائزر کو بتایا کہ ویڈیو فوٹیج کی مدد سے 2 قومی روزنامہ اخبارات اور 2 ثقافتی تنظیموں کے دفاتر پر حالیہ حملوں میں ملوث 31 مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔ پیر کی صبح تک ڈھاکہ اور ملک کے دیگر علاقوں میں مشترکہ کارروائیوں کے دوران کم از کم 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے سرحدی قتل اور نوجوانوں کی بڑھتی ناراضگی، بھارت کے لیے بنگلہ دیش میں خطرے کی گھنٹی
گرفتار افراد کے نام محمد کاشم فاروقی، محمد سعید الرحمٰن، راکب حسین، محمد نعیم، محمد سہیل رانا اور محمد شفیق الاسلام بتائے گئے ہیں، جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ چٹاگانگ میں بھارت کے اسسٹنٹ ہائی کمشنر کی رہائش گاہ کے قریب بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والے 3 افراد کی بھی ویڈیو فوٹیج کے ذریعے شناخت کر لی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران چیف ایڈوائزر محمد یونس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شریف عثمان ہادی کے قتل اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ آنے والے قومی انتخابات سے قبل ہر صورت ملک میں معمول کا امن و امان برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔














