بھارتی تفتیشی ادارے، سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے لیفٹیننٹ کرنل دیپک کمار شرما اور ونود کمار کو دفاعی پیداوار کے محکمے سے متعلق رشوت اور بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتاریاں 19 دسمبر 2025 کو درج مقدمے کے بعد عمل میں آئیں، جب ایجنسی کو سرکاری اہلکاروں اور نجی کمپنیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی معلومات موصول ہوئی۔
تحقیقات کے مطابق شرما نے بعض دفاعی صنعت اور برآمدات میں مصروف کمپنیوں کو غیر قانونی فوائد دینے کے لیے رشوت کی درخواست اور وصولی کی تھی۔ سی بی آئی کے مطابق شرما کو بنگلور کی ایک کمپنی سے 3 لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ریلیف کے بدلے 90 لاکھ کی رشوت، ڈکی بھائی کی اہلیہ کی شکایت پر این سی سی آئی اے کے اہم افسران گرفتار
ونود کمار پر الزام ہے کہ اس نے کمپنی کی ہدایت پر یہ رشوت شرما کو 18 دسمبر 2025 کو فراہم کی۔ متعدد مقامات پر چھاپوں کے دوران شرما کے دہلی میں گھر سے 2.23 کروڑ روپے نقد اور 3 لاکھ روپے کی رشوت ضبط کی گئی۔ علاوہ ازیں شرما کی اہلیہ، کرنل کاجل بلی کے سری گنگا نگر (راجستھان) میں واقع گھر سے 10 لاکھ روپے ضبط کیے گئے۔
چھاپے بنگلور، جموں اور نئی دہلی میں شرما کے دفتر پر بھی مارے گئے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ شرما بدعنوان اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا اور یہ ایک وسیع تر سازش کا حصہ ہے جس میں اس کی اہلیہ اور دیگر شریک کار شامل ہیں۔
ایجنسی کے مطابق چند نجی کمپنیوں کے نمائندے بھی اس سازش میں ملوث تھے جو دفاعی مصنوعات کی تیاری اور برآمدات سے متعلق تھے۔ ابتدائی تفتیش میں دبئی کی ایک کمپنی اور بنگلور کے دیگر نجی شعبے کے پارٹنرز سے روابط کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: ڈکی بھائی سے ڈیڑھ کروڑ روپے رشوت لی گئی، رشوت کس نے اور کیسے لی، سینیئر صحافی کے اہم انکشافات
گرفتار دونوں ملزمان کو خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش کیا گیا، جس نے انہیں 23 دسمبر 2025 تک سی بی آئی کی تحویل میں بھیج دیا۔
سی بی آئی نے کہا کہ چھاپوں کے دوران ضبط کیے گئے دستاویزات، نقد اور دیگر مواد کی جانچ جاری ہے، اور مزید اقدامات اس وقت کیے جائیں گے جب شواہد اور ملوث افراد کے بیانات کی تفصیلی جانچ مکمل ہو جائے۔
ایجنسی نے تصدیق کی کہ تحقیق کا محور دفاعی خریداری اور برآمدات میں بدعنوانی ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید پیشرفت متوقع ہے۔














