اسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی، اغوا کے بعد قتل کا مرکزی ملزم چند گھنٹوں میں گرفتار

پیر 22 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد پولیس نے تھانہ ہمک اور ہومی سائیڈ یونٹ، سواں زون کی مشترکہ کارروائی میں اغوا کے بعد قتل ہونے والے مقتول سرفراز کے قاتل چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس سیکیورٹی ڈویژن کی سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق، ہیومن ریسورسز اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا گیا۔ ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے بتایا کہ مرکزی ملزم جمعہ خان نے ذاتی رنجش پر دوست وقاص کے ساتھ مل کر مقتول کو قتل کیا۔ قتل کے بعد مقتول کی لاش نالے میں کنکریٹ کے پائپ میں چھپا دی گئی تھی۔

مقتول ایک پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ تھا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کی مبینہ کرپشن بےنقاب

ایس پی سواں زون خرم اشرف کی نگرانی میں ایس ایچ او ہمک اور ماہر تفتیشی پولیس افسران پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر خارجہ اسحاق ڈار لندن پہنچ گئے، برطانوی وزیر خارجہ سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں متوقع

جاپانی کورٹس میں پاکستانی شاہینوں کا راج، 37 ویں جونیئر اوپن سکواش میں 2 گولڈ میڈلز پاکستان کے نام

کھیلوں کا سب سے بڑا میلہ پاکستان میں، 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان

ن لیگ آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی قیادت پر اعتماد کا اظہار

حنا جاوید قتل کیس: شوہر اور گھریلو ملازم 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

ویڈیو

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟