پاکستان اور افغاستان کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں، پاکستان اور افغانستان کے مابین دوحہ کے بعد ترکیہ کے شہر استنبول میں ہونے والے مذاکرات افغان طالبان کی ضد، ہٹ دھرمی اور منافقت کی نذر ہوگئے ہیں، کابل میں افغان علما و مشائخ کے بڑے اجتماع سے جاری ہونے والے بیان کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم اس کے اثرات کب سامنے آئیں گے اور پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لیے پاکستانی اور افغانی علما کیا کردار ادا سکتے ہیں؟
مزید پڑھیں: پاک افغان تعلقات میں نرمی؟ افغان علما کا بیان ’حوصلہ افزا مگر ناکافی‘
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے علما تعلقات میں بہتری اور دونوں ممالک کے مفاد میں فیصلے کرنے کی اپیل ہی کرسکتے ہیں، افغانستان کے علما کو آگے آنا چاہیے اور انہوں نے چند دن قبل جو اعلامیہ پیش کیا تھا اس پر عمل درآمد کرانا چاہیے، پاکستان کے علما نے ہمیشہ امن کی ہر کوشش کو خوش آمدید کہا ہے، ہم اپنی حکومت سے گزارش بھی کرتے ہیں کہ وہ کوئی انتہائی قدم نہ اٹھائے اور نہ ہی ہماری حکومت نے ایسا کوئی قدم اٹھایا ہے، ہماری حکومت نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے، ہم نے کل بھی دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کی لاشیں اٹھائی ہیں اور پہلے بھی اٹھاتے جا رہے ہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ افغانستان کے علما کو چاہیے کہ وہ اپنی حکومت سے اپنی گزارشات منوائیں، اگر افغانستان حکومت ہماری طرف ایک قدم بڑھ کر آئے گی تو ہم چار قدم بڑھ کر آئیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے ملک میں دہشتگردی ہوتی رہے، ہماری افواج اور عوام کو شہید کیا جائے اور ہم یہ کہتے رہیں کہ ہم نے مذاکرات ہی کرنے ہیں، جب تک یہ دہشتگردی اور یہ خون کا کھیل جو افغانستان سے پاکستان میں کھیلا جا رہا ہے جب تک یہ بند نہیں ہوتا امن کا راستہ نظر نہیں آئے گا۔
صدر متحدہ جمعیت اہلحدیث ڈاکٹر علامہ سید ضیا اللہ شاہ بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 40 برس میں افغان مہاجرین کو اسلامی اخوت کے جذبے کے تحت اپنے بھائیوں کی طرح پناہ دی اور ہر قسم کی قربانیاں دیں، جس پر پوری قوم خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے قیام اور افغانستان میں امن کی یقین دہانی کے بعد مہاجرین کی باعزت واپسی ایک فطری اور عالمی اصولوں کے مطابق عمل تھا، جس میں پاکستان نے بھرپور سہولت فراہم کی۔
مزید پڑھیں: پاک افغان تجارتی کشیدگی، اصل مسئلہ سرحد نہیں، دہشتگردی ہے
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حالیہ عرصے میں افغانستان کی جانب سے پاکستان کے ساتھ احسان شناسی کے بجائے نامناسب رویہ سامنے آیا ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ علامہ ضیا اللہ شاہ بخاری نے واضح کیا کہ اس معاملے پر ریاستِ پاکستان کا مؤقف دوٹوک ہے اور علما کرام، بشمول مفتی تقی عثمانی، نے ہمیشہ اصلاح، رہنمائی اور مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، ہمارا وہی مؤقف ہے جو ریاست پاکستان کا مؤقف ہے، پاکستان کے تمام علما چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علما کرام کو ریاستی بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ یہی پوری پاکستانی قوم کا مشترکہ مؤقف ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغانستان کے علما، جنہوں نے حالیہ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، اگر اس مؤقف کو عملی طور پر منوانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔












