بنگلہ دیش کے جنوب مغربی شہر کھلنا میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے لیبر ونگ کے ایک مرکزی رہنما کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر زخمی کر دیا۔ پولیس اور پارٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز پیش آیا۔
زخمی رہنما کی شناخت محمد مطلب شکدر (42 سال) کے نام سے ہوئی ہے، جو این سی پی کے لیبر پلیٹ فارم ’جاتیہ شرمک شکتی‘ کے مرکزی آرگنائزر اور کھلنا ڈویژن کے کنوینر بھی ہیں۔ انہیں شہر کے سونادانگا علاقے میں ایک رہائش گاہ کے اندر صبح تقریباً 11 بج کر 45 منٹ پر نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد، ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ
این سی پی کھلنا میٹروپولیٹن یونٹ کے آرگنائزر سیف نواز کے مطابق، محمد مطلب شکدر حالیہ دنوں میں خولنا میں ہونے والے ایک اہم ڈویژنل مزدور کنونشن کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمی رہنما کو ابتدا میں مقامی افراد کھلنا میڈیکل کالج اسپتال لے گئے، بعد ازاں سر کے سی ٹی اسکین کے لیے انہیں ایک تشخیصی مرکز منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

فائرنگ کے واقعے کے بعد قریبی ضلع جیسور میں سرحدی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) نے بینا پول سرحد پر نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ ملزمان کے بھارت فرار ہونے کا امکان روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے قتل کیس، حملے اور احتجاج: بنگلہ دیش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت ہدایات جاری کردی گئیں
بی جی بی کی 49ویں بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل سیف اللہ صدیقی کے مطابق سرحدی گشت کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ بنگلہ دیش کے جنوب مغربی علاقوں میں سیاسی تشدد پر بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بن گیا ہے، جبکہ حکام نے ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
واضح رہے کہ ماہ رواں ہی میں نیشنل سٹیزن پارٹی کے ایک مرکزی رہنما عثمان ہادی کو بھی سر میں گولی مار کر شہید کردیا گیا تھا۔ بھارت کی طرف سے شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے والی طلبہ تحریک کے متعدد رہنماؤں کو سر میں گولیاں مار کر ہلاک کرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔













