بنگلہ دیش کی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک کے معروف قومی اخبارات پروتھوم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر پر حالیہ حملوں کے سلسلے میں کم از کم 9 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں ڈھاکا اور ملک کے دیگر علاقوں میں مشترکہ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران عمل میں آئیں۔ اب تک جن 7 ملزمان کی شناخت کی تصدیق ہو چکی ہے، ان میں محمد کاشم فاروق، محمد سعید الرحمان، راکب حسین، محمد نعیم، فیصل احمد پرنتو، محمد سہیل رانا اور محمد شفیق الاسلام شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کاؤنٹر ٹیررازم یونٹ اور ڈیٹیکٹیو برانچ نے مزید 2 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے، جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
31 مشتبہ افراد کی نشاندہی
پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے اتوار کے روز چیف ایڈوائزر محمد یونس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ویڈیو فوٹیج کے تجزیے کے بعد اب تک 31 مشتبہ افراد کی ابتدائی شناخت ہو چکی ہے، جو ان حملوں میں ملوث پائے گئے۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ چٹاگانگ میں بھارت کے اسسٹنٹ ہائی کمشنر کی رہائش گاہ کے قریب بدامنی پھیلانے کی کوشش میں ملوث تین افراد کی بھی ویڈیو شواہد کی بنیاد پر شناخت کر لی گئی ہے۔
ملزمان کی تفصیلات
تحقیقات کے مطابق کاشم فاروق بوگورا کی ایک دینی درسگاہ کے سابق طالب علم ہیں اور اس وقت ڈھاکا کے محمد پور علاقے میں مقیم ہیں۔ سعید الرحمان کا تعلق فریدپور ضلع کے بھانگا علاقے سے ہے۔
راکب حسین، ضلع شیرپور کے رہائشی، ویڈیو فوٹیج میں اخباری دفاتر میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی میں سرگرم نظر آئے، جبکہ انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی اشتعال انگیز پوسٹس کیں۔
محمد نعیم کو کوملا ضلع سے گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 50 ہزار ٹکا برآمد ہوئے۔ پولیس کے مطابق انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے مجموعی طور پر 1 لاکھ 23 ہزار ٹکا لوٹے، جن میں سے کچھ رقم سے ٹی وی اور فریج خریدا گیا، جو بعد ازاں برآمد کر لیے گئے۔
محمد سہیل رانا پر منشیات سمیت 13 مقدمات درج ہیں۔ محمد شفیق الاسلام پر آتش زنی اور دیسی بم دھماکوں کے دو مقدمات پہلے سے درج ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔














