اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج طارق محمود جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کیس دائر کرنے والے معروف قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ طارق جہانگیری جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ گئے تو وہاں بھی پیش ہوں گا۔
’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ کیس اس وقت میرے سامنے آیا جب ایک اخبار میں طارق جہانگیری کی جعلی ڈگری سے متعلق خبر شائع ہوئی۔
مزید پڑھیں: جعلی ڈگری کیس: جسٹس طارق جہانگیری نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر پر بڑا الزام عائد کردیا
’اس کے بعد میں نے بطور وکیل اس خبر کی بنیاد پر کیس دائر کیا اور میری درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے جج طارق محمود جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔‘
میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہاکہ طارق جہانگیری کی ڈگری کی تصدیق پہلی مرتبہ ہوئی ہے، اس سے پہلے وہ اپنی ڈگری کی تصدیق کرواتے ہی نہیں تھے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اس کیس میں اپنے مؤقف میں بتایا کہ طارق محمود جہانگیری نے اپنی کوئی بھی ڈگری ایچ ای سی سے تصدیق نہیں کروائی۔
’طارق جہانگیری کی ایل ایل بی پارٹ ون اور ٹو کی ڈگریاں جعلی ہیں‘
انہوں نے کہاکہ ان کی ایل ایل بی پارٹ ون اور ایل ایل بی پارٹ ٹو کی ڈگریاں بوگس ہیں، اور ان ڈگریوں کے عوض انہیں جو عہدے ملے وہ سب غیر قانونی تھے۔ اگر طارق جہانگیری اپنا مقدمہ لے کر سپریم کورٹ جاتے ہیں تو میں دوبارہ اس مقدمے میں پیش ہو کر ثابت کروں گا کہ ان کی ڈگری جعلی تھی۔
انہوں نے کہاکہ میں نے اس کیس میں کوئی فیس نہیں لی، یہ کیس عوامی مفاد میں دائر کیا۔ آئین کے تحت سپریم جوڈیشل کمیشن کو ججز کی تعیناتی کا اختیار دیا گیا ہے اور انہیں چاہیے کہ ججز کی ڈگریوں کی تصدیق کروائیں۔
’طارق جہانگیری کی ڈگری کا معاملہ بھی جب سامنے آیا تھا تو سپریم جوڈیشل کمیشن کو ایکشن لینا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی، جس پر میں نے پٹیشن دائر کی۔‘
میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہاکہ طارق جہانگیری کے کردار کی میں تعریف کروں گا۔ ایک پیشی کے موقع پر وہ سب وکلا سے مل رہے تھے، مجھے لگا کہ وہ مجھ سے نہیں ملیں گے اور ناراضی کا اظہار کریں گے، مگر وہ میرے پاس آئے، میرا حال پوچھا اور شکریہ بھی ادا کیا۔
’میں عمران خان پر مبینہ قاتلانہ حملہ کرنے والے کا بھی وکیل ہوں‘
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیئر قانون دان میاں داؤد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کے طرزِ سیاست کے اعلانیہ طور پر مخالف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر آباد میں جس شخص نوید کو عمران خان پر قاتلانہ حملے کے الزام میں پکڑا گیا، اس نے عمران خان پر حملہ ہی نہیں کیا تھا۔ ملزم نوید کا جو ویڈیو بیان جاری کیا گیا تھا، اسے آج تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت میں کوئی ایسی شہادت پیش نہیں کی گئی کہ وزیر آباد میں عمران خان کے کنٹینر پر کھڑے لوگوں پر فائرنگ اس شخص نے نہیں کی تھی۔
انہوں نے کہاکہ ملزم نوید صرف راہگیر تھا جسے شک کی بنیاد پر پولیس نے گرفتار کر لیا، اور اب میں ہی اس ملزم کا وکیل ہوں۔
میاں داؤد کے مطابق پولیس نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے کسی راہگیر کو اتنے بڑے واقعے کا ملزم بنا دیا۔ ملزم نوید کو سیشن کورٹ سے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، اور اب اس کی بے گناہی کی اپیل لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔ عدالت میں ملزم نوید کا کوئی ویڈیو بیان پیش نہیں کیا گیا، اگر پیش کیا جاتا تو اس پر بحث ہوتی کہ یہ بیان ملزم سے کیسے لیا گیا۔
مزید پڑھیں: معزول جسٹس طارق محمود جہانگیری کو وزارت قانون و انصاف نے باضابطہ طور پر ڈی نوٹیفائی کر دیا
’عمران خان پر قاتلانہ حملہ اپنی پارٹی نے کروایا تھا‘
میاں داؤد نے اپنی ذاتی رائے میں کہاکہ عمران خان پر حملہ ان کی اپنی پارٹی نے کروایا، اور اب تک پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اس کیس کے حوالے سے عدالت میں پیش نہیں ہوئی۔













