معزول جسٹس طارق محمود جہانگیری کو وزارت قانون و انصاف نے باضابطہ طور پر ڈی نوٹیفائی کر دیا

جمعہ 19 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جعلی ڈگری کیس میں اہم عدالتی فیصلے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج طارق محمود جہانگیری کو عہدے سے فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔ صدرِ پاکستان نے عدالت کے حکم کی روشنی میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کو بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جمعرات 18 دسمبر کو جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری جج رہنے کے اہل نہیں رہے، لہٰذا فوری طور پر انہیں عہدے سے ڈی نوٹیفائی کیا جاتا ہے۔ نوٹیفکیشن وزارت کے سیکریٹری راجہ نعیم اکبر کے دستخط سے جاری ہوا۔

نوٹیفیکیشن کا عکس

وزارتِ قانون نے یہ نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ کے اسی روز کے فیصلے کے تناظر میں جاری کیا۔ نوٹیفکیشن میں واضح ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

جعلی ڈگری کیس اور عدالتی فیصلہ

یاد رہے کہ جمعرات 18 دسمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی ڈگری کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژنل بینچ نے قرار دیا کہ جس وقت طارق جہانگیری کو جج تعینات کیا گیا، اس وقت ان کے پاس درست ایل ایل بی ڈگری موجود نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ کا جعلی ڈگری کیس میں اہم فیصلہ، جسٹس طارق محمود جہانگیری کو بطور جج ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم

عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق رجسٹرار کراچی یونیورسٹی نے بتایا کہ طارق محمود نے جعلی انرولمنٹ نمبر کے ذریعے ایل ایل بی کا امتحان دیا تھا۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ امتحانی عملے کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر ان پر تین سال کی پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔

وزرات قانون کے نوٹیفیکیشن کا عکس

درخواست گزار میاں داؤد نے عدالت میں حلف اٹھا کر کہا کہ جسٹس جہانگیری کے انرولمنٹ فارم اور ڈگری دونوں بوگس تھے۔ کراچی یونیورسٹی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اپنے امتحانات مختلف ولدیت کے ساتھ دیے تھے، جس سے شکوک مزید گہرے ہوئے۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس طارق جہانگیری خود پیش نہ ہوئے جبکہ ان کی جانب سے وکلا اکرم شیخ اور صلاح الدین نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ میں اس معاملے پر کارروائی معطل ہے اور آرٹیکل 10-A کے تحت انہیں شفاف ٹرائل کا حق دیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ ملکی عدالتی نظام میں شفافیت اور ججوں کی تعلیمی اہلیت کے جائزے کے حوالے سے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ فیصلے کے مطابق جسٹس جہانگیری مستقبل میں بھی جج کے طور پر خدمات انجام دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

’صہیونی لابی سرگرم ہے‘، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کی کوریج پر سخت ردعمل

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کا مضمون لازمی قرار دینے کا فیصلہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں