بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جولائی کی عوامی تحریک کے سرگرم کارکن شریف عثمان ہادی کے قتل میں انصاف کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ مشیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد جہانگیر عالم چوہدری نے کہا ہے کہ اس سنگین جرم میں ملوث کسی فرد کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
مشیر داخلہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مشترکہ فورسز نے اب تک 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کارروائیوں میں پولیس، ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (BGB) شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: عثمان ہادی کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگوں کی شرکت، قومی شاعر کے مزار کے پاس تدفین کردی گئی
گرفتار افراد میں مبینہ مرکزی ملزم فیصل کریم مسعود کی اہلیہ، والدین، سالا اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کا مالک شامل ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے موٹر سائیکل کے علاوہ 2 غیر ملکی ساختہ پستول، 2 میگزین، 41 گولیاں اور ایک کھلونا پستول بھی برآمد کرلیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل جہانگیر عالم نے کہا کہ مرکزی ملزم کی نشاندہی اور گرفتاری کی جانب نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے، تاہم تفتیشی تقاضوں کے پیشِ نظر قتل کے محرکات سے متعلق تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا رہیں۔
انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی اور لوٹے گئے ہتھیاروں کی برآمدگی کے لیے آپریشن جاری ہے۔ 13 دسمبر کو شروع کیے گئے آپریشن ڈیول ہنٹ فیز-2 کے تحت 20 دسمبر تک 6,598 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ اس دوران اسلحہ، گولہ بارود، دستی بم، مارٹر شیل، بارودی مواد اور بم بنانے کا سامان بھی برآمد ہوا ہے۔ وارنٹس اور مختلف مقدمات کے تحت مجموعی طور پر 13,505 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مشیر داخلہ نے کہا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی (DUCSU)، راجشاہی یونیورسٹی (RACSU) اور چٹاگانگ یونیورسٹی (CHACSU) میں حالیہ طلبا یونین کے انتخابات پُرامن طور پر منعقد ہوئے، اور انہیں یقین ہے کہ جگن ناتھ یونیورسٹی کے انتخابات بھی محفوظ اور شفاف ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ڈھاکہ: انقلاب منچ کا حکومت کو عثمان ہادی کے قاتلوں کی 24 گھنٹوں میں گرفتاری کا الٹی میٹم
انہوں نے کرسمس اور نیو ایئر کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ معروف اخبارات پرتھم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر پر حملوں میں ملوث 17 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور دونوں اخبارات کے ایڈیٹرز کو اضافی سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میمن سنگھ میں ایک گارمنٹس ورکر کو تشدد اور آگ لگا کر قتل کرنے کے واقعے میں بھی 10 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
مشیر داخلہ نے 25 دسمبر کو بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان کی وطن واپسی کے پیشِ نظر سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے، حساس تنصیبات کی حفاظت، بڑے شہروں میں ناکوں میں اضافہ اور سی سی ٹی وی و پولیس کنٹرول رومز کے ذریعے امن و امان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔














