افغان باشندے غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کے لیے پاکستان کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟

منگل 23 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حال ہی میں بلوچستان کے ضلع چاغی میں نوکنڈی کے قریب پیش آنے والا دلخراش ٹریفک حادثہ ایک بار پھر غیر قانونی ہجرت کے المیے کو بے نقاب کر گیا، جہاں بہتر مستقبل کے خواب لیے یورپ جانے والے 9 افغان شہریوں سمیت 10 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک پک اپ گاڑی تیز رفتاری کے باعث آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ایس ایس پی چاغی محمد شریف کلہوڑو کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جاں بحق ہونے والے افغان شہری غیر قانونی طور پر ایران کے راستے یورپی ممالک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے غیرقانونی تارکین وطن: جان لیوا ’ڈنکی روٹ‘ کیوں مقبول ہے؟

حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد انہیں اور جاں بحق افراد کی لاشوں کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق اس واقعے میں منظم انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں، جن کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

افغان شہری یورپ جانے کے لیے کن راستوں کا استعمال کر رہے ہیں؟

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان باشندے کن راستوں سے غیر قانونی طور پر یورپ کا رخ کرتے ہیں؟

مقامی افراد کے مطابق افغان مہاجرین پہلے چاغی اور اس کے اطراف کے علاقوں سے غیر قانونی طور پر پاکستان داخل ہوتے ہیں، جس کے بعد کوئٹہ میں موجود ایجنٹ پورے خطرناک سفر، یعنی ’ڈنکی‘ کے لیے ان سے رقم وصول کرتے ہیں، جو 2 سے 5 لاکھ روپے کے درمیان ہوتی ہے۔

یہ رقم ابتدائی طور پر ڈنکی لگانے والے افراد کو ایجنٹ کے حوالے کرنا ہوتی ہے۔ یہ ایجنٹس سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر باآسانی دستیاب ہیں۔

پاکستان سے ایران، ترکیہ اور یونان تک خطرناک سفر

بعد ازاں یہ انسانی اسمگلر انہیں غیر قانونی طور پر پاکستان سے ایران کی سرحد ٹرک، مال بردار گاڑی یا ٹینکر کے ذریعے پار کرواتے ہیں۔ ایران پہنچنے کے بعد یہ افراد دوسرے ایجنٹوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں، جو سخت نگرانی سے بچتے ہوئے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں، بیابانوں اور برف پوش علاقوں سے مسلسل پیدل سفر کروا کر ترکیہ تک پہنچاتے ہیں۔

ترکیہ کی سرحد عبور کرنے کے بعد ان نوجوانوں کو تیسرے ایجنٹ کے سپرد کیا جاتا ہے، جس کی ذمہ داری انہیں یونان پہنچانا ہوتی ہے۔ تاہم ہر گزرتے سال کے ساتھ سرحدی سیکیورٹی سخت ہونے کے باعث یہ راستہ مزید خطرناک اور جان لیوا بنتا جا رہا ہے۔

انسانی اسمگلروں کے نئے طریقے

حالیہ برسوں میں سیکیورٹی سخت ہونے کے باعث انسانی اسمگلروں نے نئے طریقے اختیار کر لیے ہیں، جن میں نوجوانوں کو پہلے ویزا کے ذریعے دبئی لے جایا جاتا ہے، وہاں سے غیر قانونی طور پر لیبیا منتقل کیا جاتا ہے، اور بعد ازاں چھوٹی، غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے بحیرۂ روم عبور کروا کر یونان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

افغان باشندے وطن چھوڑنے پر مجبور کیوں ہیں؟

آخر افغان باشندوں کی بڑے پیمانے پر افغانستان چھوڑنے کی وجہ کیا ہے؟ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے، جہاں بے روزگاری کی شرح 75 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کی 90 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

معاشی بحران اور امداد میں کمی

اقوامِ متحدہ کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی کے دوران افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 6.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ماہانہ فی کس آمدنی گھٹ کر محض 100 ڈالر کے قریب رہ گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 70 فیصد سے زائد افغان شہری اس وقت انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، مگر حالیہ مہینوں میں عالمی امداد میں نمایاں کمی نے لاکھوں خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان اور  یورپی یونین کے درمیان غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ روکنے پر اتفاق

ڈنکی: کم خرچ، مگر جان لیوا سفر

ماہرین کے مطابق چاہے ڈنکی زمینی راستے سے لگائی جائے یا سمندری راستے سے، خطرات کم نہیں ہوتے۔ اگرچہ کم اخراجات کے باعث یہ راستہ نوجوانوں کو پُرکشش محسوس ہوتا ہے، لیکن اس سفر میں جان جانے، بھوک، تشدد، گرفتاری اور سمندر میں ڈوبنے جیسے خطرات ہر قدم پر موجود ہوتے ہیں۔ چاغی کا حالیہ حادثہ اسی حقیقت کی ایک تلخ مثال ہے۔

ایک حادثہ، کئی تلخ حقیقتیں

چاغی میں پیش آنے والا یہ المناک حادثہ محض ایک ٹریفک حادثہ نہیں بلکہ افغانستان میں جاری معاشی بحران، بے روزگاری اور عالمی امداد میں کمی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ جب ایک ملک کی اکثریتی آبادی بنیادی ضروریات سے محروم ہو جائے تو غیر قانونی ہجرت جیسے خطرناک فیصلے ناگزیر بن جاتے ہیں۔ دوسری جانب منظم انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک ان مجبور حالات سے فائدہ اٹھا کر معصوم جانوں کو منافع کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔

مسئلے کا حل کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک افغانستان میں معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور انسانی امداد میں بہتری نہیں آتی، اس وقت تک غیر قانونی ہجرت اور اس سے جڑے حادثات کا سلسلہ ختم ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ چاغی کا حادثہ ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ غیر قانونی ہجرت صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے خطے کا انسانی اور سلامتی کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟