طاہرہ طفیل مکان کی ملکیت کے مقدمے میں نیوزی لینڈ میں اپنے بچے چھوڑ کر یہاں مقدمے کی پیروی کے لیے آتی ہیں اور اس مد میں لاکھوں روپیہ صرف بھی کرچکی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ گزشتہ 32 برسوں میں انہیں اب تک انصاف کی جگہ تاریخیں ہی ملی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ: 8 لاکھ روپے کی جائیداد پر تنازع، یورپ سے آئے 3 بھائی اپنوں کے ہاتھوں قتل
اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف 7/1 میں واقع مکان نمبر 5 کی ملکیت کا 1993/94 سے شروع ہونے والا تنازع اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ سے ہوتا ہوا گزشتہ کئی برس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ التوا رہنے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت میں فیصلے کا منتظر ہے۔
معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ متاثرہ فریق مسماۃ طاہرہ طفیل جو اس سال ستمبر میں خصوصی طور نیوزی لینڈ سے پاکستان مقدمے کی پیروی کے لیے آئیں، گزشتہ 2 تاریخوں پر ان کے مقدمے کی شنوائی اس وجہ سے نہیں ہو سکی کیونکہ 2 بار عدالت نے معروف وکیل ایمان مزاری کے متنازعہ ٹوئٹس والے مقدمے کی کارروائی کی وجہ سے کئی مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی تھی جن میں طاہرہ طفیل کا مقدمہ بھی شامل تھا۔
طاہرہ طفیل کہتی ہیں کہ میں نیوزی لینڈ میں اپنے بچے چھوڑ کر یہاں مقدمے کی پیروی کے لیے آئی ہوں لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، انصاف تو کیا ملنا تھا، ملتی ہے صرف تاریخ۔
انہوں نے کہا کہ ایمان مزاری کا مقدمہ ضروری ہو گا لیکن کیا باقی لوگوں کے مقدمات غیر ضروری ہیں، کیا ہمارے وقت کی اور ہماری کوئی اہمیت نہیں؟
مزید پڑھیے: جائیداد کے تحفظ کا بل: اوورسیز پاکستانیوں کو کیا فائدہ ہوگا؟
نومبر میں ایک تاریخ پر اُن کے وکیل کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ لانے کو کہا گیا، پھر 29 نومبر کو جب معاملے پر بحث ہونا تھی تو اس دن ایمان مزاری کے مقدمے کی وجہ سے طاہرہ طفیل کے مقدمے کی سماعت ملتوی ہو گئی، اس کے بعد 20 دسمبر کی تاریخ پڑی تو اس دن ایک بار پھر ایمان مزاری کے مقدمے کی وجہ سے سماعت ملتوی کر دی گئی اور اِن کو اگلی تاریخ 16 جنوری کی دی گئی۔
طاہرہ طفیل کہتی ہیں کہ اگر 16 جنوری کو بھی ایمان مزاری کا کیس ہی سنا گیا تو کیا معلوم میرا مقدمہ ایک بار پھر التوا کا شکار ہو جائے۔
مذکورہ مقدمہ کئی سال اِسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِالتوا رہا، پھر عدالتی اصلاحات کے تحت جب بہت سارے مقدمات ہائیکورٹ سے ضلعی عدالتوں میں منتقل ہوئے تو یہ بھی وہیں منتقل ہو گیا۔
مزید پڑھیں: بہنوں کا حق غصب کرنے والے بھائی کو قاضی کی عدالت میں لینے کے دینے پڑگئے
درخواست گزار نیوزی لینڈ سے پاکستان آ کر ہر تاریخ پر عدالت جاتی ہیں اور وہاں سے نئی تاریخ لے کر واپس آ جاتی ہیں۔
مقدمے کی تفصیل
درخواست گزار کے مطابق اگست 1991 میں مذکورہ گھر باقاعدہ وصیت اور ایگریمنٹ کے بعد ان کے والد نے ان کو گِفٹ کیا لیکن چونکہ وہ اپنے والد کی حقیقی اولاد نہیں تھیں اور ان کے والد نے ان کو پیدائش کے چند روز کے بعد گود لیا تھا، اس لیے ان کے والد کے رشتے داروں نے وراثت کے قانون کے تحت مکان پر دعوٰی کر دیا اور 1993/94 سے شروع ہونے والا تنازع اب بھی زیر التوا ہے۔
طاہرہ طفیل نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اکتوبر 2024 میں 26 ویں آئینی سے ایک سال قبل جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اس مقدمے کی سماعت کر رہے تھے جب یہ اپنے اختتام کے قریب تھا تو جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج مقرر کر دیا گیا، پھر یہ بغیر کسی کارروائی کے ملتوی ہوتا رہا اور اُس کے بعد ضلعی عدالت کو منتقل کر دیا گیا۔
انہوں ںے کہا کہ ’32 سال سے انتظار کرتے کرتے تھک گئی ہوں، میں اِس مقدمے پر وکیلوں کو فیس کی مد میں رقمیں دے دے کر تنگ آ چکی ہوں مجھے لگتا ہے یہ میرے زندگی میں فیصلہ نہیں ہو پائے گا‘۔
یہ بھی پڑھیے: اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر، گاڑیوں کی ٹرانسفر کا عمل آسان ہوگیا
طاہرہ طفیل کے مطابق سی ڈی اے ریکارڈ میں مکان آج بھی ان کے والد کرنل طفیل کے نام پر رجسٹرڈ ہے لیکن مکان ہمیشہ سے ان کے قبضے ہی میں رہا ہے اور وہی اس مکان کا پراپرٹی ٹیکس ادا کرتی ہیں۔
درخواست گزار نے وی نیوز کو بتایا کہ ان کے والد کے قانونی ورثا میں ان کی ایک پھوپھی اور بھتیجا شامل تھے لیکن باقی بیش قیمت جائیدادیں دیگر ورثا کو چلی گئیں جبکہ مذکورہ مکان ان کے والد نے اگست 1991 میں ان کی شادی کے فوراً بعد ان کو دے دیا۔
مزید پڑھیں: پاکستانی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد بھارت سے کہیں زیادہ
طاہرہ طفیل کے مطابق ان کے والد نے مکان نام کیے جانے سے متعلق ایک تحریری معاہدہ بھی دیگر ورثا کے ساتھ کیا لیکن جب سنہ 1993 میں سی ڈی اے میں مکان کی ملکیت تبدیلی کے لیے گئیں تو ان کے والد کے رشتے داروں نے مکان کی تقسیم کے لیے مقدمہ کر دیا۔













