ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہونے والا ایک نجی طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں لیبیا کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد الحداد سمیت 5 اعلیٰ فوجی افسران اور عملے کے 3 ارکان ہلاک ہو گئے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق لیبیا کے مسلح افواج کے سربراہ محمد الحداد منگل کی شام انقرہ سے طرابلس واپس جا رہے تھے کہ ان کا فالکن 50 طیارہ اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد حادثے کا شکار ہو گیا۔ ترک حکام کے مطابق طیارہ انقرہ کے ایسنبوعا ایئرپورٹ سے روانہ ہوا، تاہم تقریباً ب42 منٹ بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
#Libya's army chief of staff, Mohammed al-Haddad, and four other military officials were killed when their business jet crashed south of Ankara on Tuesday evening, Libyan and Turkish authorities said.
Libyan Prime Minister Abdul-Hamid Dbeibah later confirmed the deaths in a… pic.twitter.com/iWAi9qL9cC
— China Daily (@ChinaDaily) December 24, 2025
ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے بتایا کہ طیارے کا ملبہ انقرہ کے قریب ہائیمانہ کے علاقے سے ملا، جہاں سیکیورٹی اداروں نے سرچ آپریشن کے بعد جائے حادثہ کی نشاندہی کی۔ حکام کے مطابق طیارے میں 8 افراد سوار تھے، جن میں محمد الحداد، ان کے چار قریبی ساتھی اور تین رکنی عملہ شامل تھا، اور کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے کو پرواز کے کچھ ہی دیر بعد برقی نظام میں خرابی کا سامنا ہوا، جس پر پائلٹ نے ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی، تاہم رابطہ بحال نہ ہو سکا۔ ترک وزارتِ انصاف کے مطابق واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا لیبیا کا سرکاری دورہ، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال
لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ نے محمد الحداد کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک سینئر فوجی قیادت سے محروم ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ محمد الحداد اگست 2020 سے لیبیا کے چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر فائز تھے۔
“MOMENT Falcon 50 carrying Libya’s top general CRASHES in Turkey”
“Anadolu footage”@MTodaynews pic.twitter.com/Sk4XwRG8I5
— ByTheSea (@TheLittleNest_) December 24, 2025
واضح رہے کہ لیبیا اس وقت بھی سیاسی اور عسکری تقسیم کا شکار ہے، جہاں ایک طرف طرابلس میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت قائم ہے جبکہ مشرقی لیبیا میں ایک الگ انتظامیہ موجود ہے۔ ترکی کے طرابلس کی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے جاری رہے ہیں۔













